شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 26
بنیادی تعلیمات کو لوگوں کے سامنے پیش کرے جو شری کرشن جی لے کر آئے تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو شری کرشن کی وحدت کی تعلیم سے واقف نہیں اور وہ خود توحید پرست ہیں شری کرشن جی کو نبی کر کے مانے کو تیار نہیں ہیں کیوں کہ تو حید کی جگہ مورتی پو جانے لے لی ہے۔قصے کہانیاں اور کرشن جی قارئین !وہ لوگ جو فراست رکھتے ہیں انہوں نے وقتاً فوقتاً لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ کام اور وہ باتیں جو قصوں اور کہانیوں کی صورت میں انکی طرف منسوب کی جاتی ہیں ان کو غلط بیان کیا ہے اور جہاں تک ممکن ہوا ان کے دامن کو ایسی باتوں سے پاک کرنے کی کوشش کی ہے جن سے ان کی عظمت پر حرف آتا ہے۔غائر نظر سے دیکھا جائے تو ان بلند و برتر ہستیوں کو افسانوں کے گرداب میں ڈال کر ان کی شان کو گم کر دیا گیا ہے۔اسی بات کو بیان کرتے ہوئے جناب مولوی شبلی نعمانی لکھتے ہیں : وو " ہندوستان کے پیغمبر افسانوں کے حجاب میں گم ہیں۔“ وو (سیرت النبی جلد ۱ صفحه ۲) اسی طرح جناب مولوی عبید اللہ صاحب مؤلف تحفۃ الہند لکھتے ہیں : ہو سکتا ہے کہ اس ملک (ہند) میں حق تعالیٰ کی طرف سے بعض انبیاء بھی مبعوث ہوئے ہوں۔کیونکہ احتمال ہے کہ شاید یہ باتیں جو ان کی نسبت ان کی پوتھیوں میں لکھی ہیں جھوٹ ہوں۔‘ (رسالہ تحفۃ الہند صفحہ ۶) اس بات میں بھی شک نہیں کہ خود شری کرشن جی اور رامچندر جی کے ماننے والوں نے ان کی طرف ایسی ایسی باتیں منسوب کی ہیں جن سے ان کی ہتک اور کسر شان ہوتی ہے۔اسلام