شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 27 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 27

کے صوفیاء کرام جنہوں نے ان بزرگان کو نبی قرار دیا اور لوگوں کے سامنے ان کی نبوت کو پیش کیا وہ قطعا اس بات کو برداشت نہیں کرتے کہ کوئی ان کی کسر شان کرے اور ایسے واقعات اور افسانے ان کی طرف منسوب کرے جن سے ان کا مقام گر جائے اور ان کا یہ عمل قرآن کریم کے عین مطابق ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے : لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا (البقرة آيت ۲۸۶) یعنی وہ لوگ ( مومن ) رسولوں میں سے ایک دوسرے کے درمیان فرق نہیں کرتے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کر لی۔یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان کسی نبی کی ہتک کو برداشت نہیں کرتا کیوں کہ وہ سب نبیوں کو اپنا تسلیم کرتا ہے۔اسی وجہ سے مسلمان علماء اور مفکرین نے شری کرشن جی کی طرف منسوب کی جانے والی باتوں کو قبول نہ کرتے ہوئے ان کی توجیہہ نکالنے کی کوشش کی ہے اور غلط قسم کے الزامات سے آپ کے دامن کو پاک کرنے کی کوشش کی ہے۔جناب کیفی صاحب چڑیا کوئی نے وقائع عالمگیری“ نام کی کتاب کا مقدمہ لکھا جو کہ شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے حالات پر مشتمل ہے۔اس میں انہوں نے مولوی عنایت رسول صاحب چڑیا کوٹی کی ایک روایت درج کی ہے لکھا ہے : وو شری کرشن جی جو نہایت محتاط مرتاض حکیم اور فلسفی تھے ان کی تصویر بعض مؤرخوں نے ایسی کھینچی ہے۔برج اور گوپیوں کے متعلق ایسے ایسے افسانے تراشے ہیں کہ کرشن جی کا سفید دامن بالکل سیاہ نظر آتا ہے۔حالانکہ مسلمانوں کا ایک طبقہ ان کو نبی مانتا ہے۔ہمارے خیال میں بھی مولانا عنایت رسول چڑیا کوئی استاد سرسید کے قول کے مطابق وہ نبی تھے۔اس پر ۲۷