شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 176
فیصلوں کے نیچے ہی ہو۔آج کل بھی اعتراض ہوتے ہیں کہ ایک کارکن اچھا بھلا کام کر رہا تھا اس کو ہٹا کر دوسرے کے سپر د کام کر دیا گیا ہے۔خلیفہ وقت یا نظام جماعت نے غلط فیصلہ کیا ہے اور گویا یہ غیر معروف فیصلہ ہے۔وہ اور تو کچھ نہیں کر سکتے اس لئے سمجھتے ہیں کہ کیونکہ یہ غیر معروف کے زمرے میں آتا ہے ( خود ہی تعریف بنا لی انہوں نے ) اس لئے ہمیں بولنے کا بھی حق ہے، جگہ جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے کا بھی حق ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جگہ جگہ بیٹھ کر کسی کو نظام کے خلاف بولنے کا کوئی حق نہیں۔اس بارہ میں پہلے بھی میں تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں۔تمہارا کام صرف اطاعت کرنا ہے اور اطاعت کا معیار کیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأَقْسَمُوْا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ قُلْ لَا - تُقْسِمُوْا طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ - إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔(سورة النورآيت (۵۴) اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائیں کہ اگر تو انہیں حکم دے تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔تو کہہ دے کہ قسمیں نہ کھاؤ۔دستور کے مطابق اطاعت ( کرو ) یقینا اللہ ، جو تم کرتے ہو، اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔اس آیت سے پہلی آیات میں بھی اطاعت کا مضمون ہی چل رہا ہے۔اور مومن ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا۔اور اس تقویٰ کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ٹھہرتے ہیں اور بامراد ہو جاتے ہیں۔تو اس آیت میں بھی یہ بتایا ہے کہ مومنوں کی طرح سنو اور اطاعت کرو کا نمونہ دکھاؤ ہمیں نہ کھاؤ کہ ہم یہ کر دیں گے وہ 176