شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 177
کر دیں گے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ دعویٰ تو منافق بھی بہت کرتے ہیں۔اصل چیز تو یہ ہے کہ عملاً اطاعت کی جائے۔تو یہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کیلئے فرما رہا ہے کہ جو معروف طریقہ ہے اطاعت کا ، جو دستور کے مطابق اطاعت ہے وہ اطاعت کرو۔نبی نے تمہیں کوئی خلاف شریعت اور خلاف عقل حکم تو نہیں دینا۔مثلاً حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے مان لیا ہے تو پنج وقتہ نماز کے عادی بنو۔جھوٹ چھوڑ دو۔کبر چھوڑ دو۔لوگوں کے حق مارنے چھوڑ دو۔آپس میں پیار محبت سے رہو۔تو یہ سب طاعت در معروف کے حکم میں ہی آتا ہے۔تو یہ کام تو کرونہ اور کہتے پھرو کہ ہم قسم کھاتے ہیں کہ آپ جو ہمیں حکم دیں گے کریں گے۔اسی طرح خلفاء کی طرف بھی سے مختلف وقتوں میں روحانی ترقی کے لئے مختلف تحریکات ہیں۔جیسے مساجد کو آباد کرنے کے بارے میں ، اولاد کی تربیت کے بارے میں، اپنے اندر وسعت حوصلہ پیدا کرنے کے بارے میں، دعوت الی اللہ کے بارے میں یا متفرق مالی تحریکات ہیں۔تو یہی باتیں ہیں جن کی اطاعت کرنا ضروری ہے یا دوسرے لفظوں میں طاعت در معروف کے زمرے میں آتی ہیں۔تو نبی نے یا کسی خلیفہ نے تمہارے سے خلاف احکام الہی اور خلاف عقل تو کام نہیں کروانے۔یہ تو نہیں کہنا کہ تم آگ میں کود جاؤ یا سمندر میں چھلانگ لگا دو۔انہوں نے تو تمہیں ہمیشہ شریعت کے مطابق ہی چلانا ہے۔اطاعت کی اعلیٰ مثال اطاعت کی اعلیٰ مثال ہمیں قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں میں اس طرح ملتی ہے 177)