شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 175
پھر جب ہم اس غزوہ سے واپس آگئے تو صحابہ نے اس واقعہ کا ذکر نبی علی سے کر دیا۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” امراء میں سے جو شخص تم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کا حکم دے اس کی اطاعت نہ کرو“۔(سنن ابن ماجه - كتاب الجهاد۔باب لاطاعة في معصية الله) تو ایک تو اس حدیث سے یہ واضح ہو گیا کہ نہ ماننے کا فیصلہ بھی فرد واحد کا نہیں تھا۔کچھ لوگ آگ میں کودنے کو تیار تھے کہ ہر حالت میں امیر کی اطاعت کا حکم ہے، انہوں نے سنا ہوا تھا اور یہ سمجھے کہ یہی اسلامی تعلیم ہے کہ ہر صورت میں، ہر حالت میں، ہر شکل میں امیر کی اطاعت کرنی ہے لیکن بعض صحابہ جو احکام الہی کا زیادہ فہم رکھتے تھے، آنحضرت ﷺ کی صحبت سے زیادہ فیضیاب تھے ، انہوں نے انکار کیا۔نتیجہ مشورہ کے بعد کسی نے اس پر عمل نہ کیا کیونکہ یہ خودکشی ہے اور خود کشی واضح طور پر اسلام میں حرام ہے۔دوسرے عبد اللہ بن حذیفہ جو ان کے لیڈر تھے جب انہوں نے بعض لوگوں کی سنجیدگی دیکھی تو ان کو بھی فکر پیدا ہوئی اور انہوں نے بھی روکا کہ یہ تو مذاق تھا۔اس واقعہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے وضاحت فرما کر معروف کا اصول واضح فرما دیا کہ کیا معروف ہے اور کیا غیر معروف ہے۔واضح ہو کہ نبی یا خلیفہ وقت کبھی مذاق میں بھی یہ بات نہیں کر سکتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی واضح حکم کی خلاف ورزی تم امیر کی طرف سے دیکھو تو پھر اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو۔اور اب اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت راشدہ کا قیام ہو چکا ہے تو خلیفہ وقت تک پہنچو۔اس کا فیصلہ ہمیشہ معروف فیصلہ ہی ہوگا، اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق ہی ہوگا۔تو جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ تمہیں خوشخبری ہو کہ اب تم ہمیشہ معروف 175