شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 9 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 9

11 10 چاند سے زیادہ حسین حضرت جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ ہم باہر کھلے میدان میں بیٹھے تھے حضور ہمارے درمیان تشریف فرما تھے اور ایک سرخ لباس زیب تن کئے ہوئے تھے۔چاندنی رات تھی چودھویں کا چاند تھا۔خوب روشن بڑا حسین، لیکن میری نگاہ بار بار حضور کے چہرہ کی طرف اٹھتی تھی۔حضور آج بہت ہی پیارے لگ رہے تھے۔حضور کا حسن تو ہمیں ہمیشہ ہی گھائل کئے رکھتا تھا لیکن آج تو یہ کچھ اور ہی رنگ دکھا رہا تھا۔میں سوچتا تھا کیا اس چہرہ سے زیادہ اور کوئی چیز حسین ہو سکتی ہے۔پھر میری نگاہ چاند پر پڑی پھر میں نے حضور کے چہرہ کو دیکھا پھر چاند کو دوبارہ دیکھا پھر حضور کے رخ پر نگاہ گڑ گئی۔اف ! آپ کتنے حسین لگ رہے تھے میں نے کہا نہیں اے چاند تیرا حسن اس حسن کے آگے ماند پڑ گیا ہے۔(شمائل الترمذی باب خلق رسول اللہ ) 2 آغاز وحی حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ سب سے پہلے حضور ملالہ کو کچی خوا ہیں آنے لگیں جو خواب بھی آتی وہ نمود صبح کی طرح روشن اور صحیح نکلتی۔حضور کو خلوت پسند تھی اور غارحرا میں جا کر عبادت کرتے تھے۔آپ کچھ سامان اپنے ہمراہ لے جاتے جب ختم ہوجاتا تو دوبارہ گھر آ کر کھانے پینے کا سامان لے جاتے۔اسی اثناء میں آپ کے پاس ایک فرشتہ آیا اور کہا پڑھو آپ نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا۔فرشتے نے آپ کو زور سے بھینچا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔حضور نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا۔فرشتہ نے دوسری مرتبہ پھر بھینچا اور پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔حضور نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا۔فرشتہ نے تیسری مرتبہ پھر دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا اپنے اس پر وردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے انسان کو پیدا کیا۔پڑھو در آں حالیکہ تیرا رب عزت والا اور کرم والا ہے۔اس کے بعد حضور ملالہ گھر واپس آئے آپ ملالہ کا دل لرز رہا تھا۔اپنی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ کے پاس آکر کہا مجھے کمبل اوڑھا دو چنانچہ انہوں نے کمبل اوڑھا دیا۔جب آپ کی یہ گھبراہٹ جاتی رہی تو حضرت خدیجہ کو سارا واقعہ بتایا اور اس خیال کا اظہار کیا کہ میں اپنے متعلق ڈرتا ہوں ( کہ میں یہ اہم کام کر بھی سکوں گا یا نہیں ) اس پر حضرت خدیجہ نے کہا کہ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں ہونے دے گا۔آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کو اٹھاتے ہیں۔جو خوبیاں معدوم ہو چکی ہیں ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مہمان نواز ہیں، ضرورت حقہ میں امداد کرتے ہیں۔پھر حضرت خدیجہ ان کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں یہ حضرت خدیجہ کے چچازاد بھائی تھے۔اور زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے۔عبرانی جانتے تھے اور عبرانی انا جیل لکھ پڑھ سکتے تھے وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے بینائی بھی جاتی رہی تھی۔حضرت خدیجہ نے www۔alislam۔org