شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 8
9 8 لیکن بھرے ہوئے لمبے ہلالی تھے۔دونوں ابروؤں کے درمیان فاصلہ تھا۔غصہ کی حالت میں ابروؤں کے اس درمیانی فاصلہ میں ماتھے پر ایک رگ ابھر کر نمایاں ہو جاتی تھی۔ناک پتلی اور کھڑی ہوئی تھی جو سرسری نظر سے دیکھنے والوں کو اصل سے زیادہ اٹھی ہوئی نظر آتی تھی۔اس پر نور چھلکتا تھا۔داڑھی گھنی تھی۔رخسار نرم اور ملائم تھے۔دہانہ کشادہ تھا۔دانت خوب چمکتے تھے وہ ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے نہیں تھے بلکہ ان ایک میں قدرتی فاصلہ تھا جو بہت بھلا معلوم ہوتا تھا۔اور آپ کی لمبی گردن بس اس کا حسن نہ پوچھوا سے تو خدا نے اپنے ہاتھ سے گھڑا تھا اور وہ چاند کی طرح چمکتی تھی۔جسم کی عمومی بناوٹ بہت موزوں تھی۔وہ بھرا بھرا لیکن بہت متناسب تھا۔پیٹ کمر کے ساتھ لگا ہوا تھا اور سینہ پیٹ کے ساتھ ہموار تھا۔آپ کا سینہ چوڑا اور فراخ تھا۔آپ کے جوڑ مضبوط بھرے ہوئے اور نمایاں تھے۔جلد چمکتی ہوئی نازک اور ملائم تھی۔چھاتی اور پیٹ پر بال نہیں تھے ہاں بالوں کی ایک بار یک دھاری سینے کے نیچے سے ناف تک چلی گئی تھی۔سینہ کے اوپر کے حصہ اور کاندھوں پر اسی طرح کلائی سے کہنیوں تک ہاتھوں پر خوب بال تھے۔ہاتھ (یعنی کلائی سے کہنیوں تک بازوؤں کے حصے ) لمبے تھے دست چوڑے تھے انگلیاں لبی تھیں ہاتھ اور پاؤں نرم اور گوشت سے خوب بھرے ہوئے تھے۔تلوے زمین کے ساتھ ہموار نہیں تھے بلکہ درمیان سے ان میں خم تھا۔پیر ایسے چکنے اور ملائم تھے کہ جب ان پر پانی پڑتا تھا تو ٹھہرتا نہیں تھا فوری بہ جاتا تھا۔چال ایسی سبک تھی جیسے ڈھلوان پر سے اتر رہے ہوں لیکن بڑی ہی پر وقار۔اور باوجود تیزی کے قدم زمین پر ٹھہراؤ سے پڑتا تھا۔چہرہ اٹھا کر نہیں چلتے تھے قدموں پر نگاہ رکھ کر چلتے تھے، اکڑ کر اور گھٹتے نہیں تھے۔قدم اٹھا کر چلتے تھے۔جب کسی طرف رخ پھیرتے تھے تو پورا رخ پھیرتے تھے۔نظر ہمیشہ نیچی رکھتے تھے یوں لگتا جیسے فضا کی نسبت زمین پر نظر زیادہ پڑتی تھی۔عادتا نیم وانظروں سے نگاہ ڈالتے اور جب صحابہ کے ساتھ چل رہے ہوں تو ہمیشہ انہیں اپنے سے آگے رکھتے تھے۔جب کسی سے آمنا سامنا ہوتا تو ہمیشہ آپ ہی سلام میں پہل کیا کرتے تھے۔“ (شمائل الترمذی باب فی خلق رسول اللہ ) دوسری روایتوں میں آتا ہے کہ آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت اور سیاہ تھیں۔سرمہ نہ بھی لگائے ہوئے ہوں تو لگتا یہی تھا کہ سرمہ آنکھوں میں پڑا ہوا ہے۔آنکھوں کی سفیدی میں ہلکی سی سرخی بھی جھلکتی تھی۔چہرہ مبارک پر ہمیشہ بشاشت ہوتی تھی اور مسکراہٹ بکھری رہتی تھی۔فرفر کر کے کلام نہیں کرتے تھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے تھے۔گفتگو میں سمجھانے کا انداز نمایاں ہوتا تھا اور بات کو اکثر دہرایا کرتے تھے تاکہ دوسرے کے ذہن نشین ہو جائے۔کوہ وقار تھے کسی ایسی حرکت کا سرزد ہونا ناممکن تھا جو دوسروں میں کراہت پیدا کرے۔ہر ادا دل کو موہ لینے والی تھی۔ہر انداز میں حسن ٹپکتا تھا۔آپ نہایت پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہ تھا جس میں حسن نے اپنا کمال نہ دکھایا ہو۔چہرہ حسین تھا جسم مرقع حسن تھا۔انداز بیاں سحر کن تھا۔نگاہ مبارک اٹھتی تھی تو فضا میں حسن بکھر جاتا تھا۔اٹھنا بیٹھنا سونا۔آپ کی مجلس آپ کی خلوت سب کچھ ہی تو حسن میں ڈوبا ہوا تھا۔یہ تو ایسی داستان ہے جس کا بیان ختم نہیں ہوسکتا۔www۔alislam۔org