شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 7 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 7

7 6 اے پاک اخلاق والے إِنَّا نُطِيْعُ مُحَمَّداً خَيْرَ الْوَرى نُوْرَ الْمُهَيْمِنِ دَافِع الظلماء يَاطَيبَ الْأَخْلَاقِ وَالْأَسْمَاء افَانتَ تُبْعِدُنا مِنَ الآلَاء ہم محمد رسول اللہ مطلقہ کی پیروی کرتے ہیں جو تمام مخلوق سے بہتر ہیں جو خدائے مھیمن کا نور اور تاریکیوں کو دور کرنے والے ہیں۔اے پاک اخلاق اور پاک ناموں والے کیا آپ ہمیں اپنی نعمتوں سے محروم رکھیں گے۔حسینان انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 268 280) ز ہے خلق کامل ہوئے شرمگیں جو دیکھا وہ حسن اور وہ نور جہیں پھر اس وہ پر اخلاق اکمل تریں کہ دشمن بھی کہنے لگے آفریں خلق کامل زہے حسن تمام رہے علیک الصلوة علیک السلام (حضرت میر محمد اسماعیل صاحب) 1 حسن مجسم ظاہری حسن کا بے مثال نمونہ حضرت حسن بن علی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں حضرت ہند بن ابی ھالہ سے آنحضرت ملالہ کا حلیہ پوچھا کیونکہ وہ آنحضرت صل اللہ کا حلیہ بیان کرنے میں بڑے ماہر تھے اور میں چاہتا تھا کہ وہ میرے پاس حضور کے حلیہ کے متعلق ایسی باتیں بیان کریں جنہیں میں پہلے باندھ لوں۔حضرت حسن فرماتے ہیں کہ میرے ماموں نے حضور کا حلیہ مجھ سے کچھ یوں بیان فرمایا:۔آنحضرت ملالہ کی آنکھوں اور آپ کے سینہ میں ایسی کشش تھی اور ایسا حسن تھا کہ جو دیکھنے والوں کو مرعوب کر لیتا تھا۔آپ کا چہرہ مبارک بھرا ہوا تھا۔شرافت اور عظمت کے آثار اس پر نمایاں تھے اور رعب و وجاہت اس سے ٹپکی پڑتی تھی۔وہ چاند کی طرح چمکتا تھا اور حسن اس میں موجیں مارتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔آپ نہ تو کوتاہ قد تھے نہ حد سے زیادہ لمبے بلکہ آپ کا قد بہت مناسب اور درمیانہ تھا۔سر بڑا تھا بال گھنے تھے جو کانوں کی لو تک پہنچتے تھے لیکن اس سے نیچے نہیں گرتے تھے۔ان میں قدرتی طور پر ایسا سنوار پایا جاتا تھا کہ وہ کبھی بھی بکھرتے یا پراگندہ نہیں ہوتے تھے اور انہیں کنگھی کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔بعض دفعہ آپ کے بالوں میں خود بخود مانگ پڑ جاتی تھی جو نمایاں ہوتی تھی ورنہ حضور خود عام طور پر بالوں میں مانگ نہیں نکالتے تھے۔آپ کا رنگ سفید اور کھلتا ہوا تھا۔پیشانی کشادہ تھی۔ابر و باریک www۔alislam۔org