شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 95
95 اور شیریں تھے۔مجھے اتنے پسند آئے کہ میں نے عرض کی کہ یہ خط مجھے دے دیں میں نقل کر کے واپس کر دوں گا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے خط اپنی جیب میں ڈال لیا اور مجھے فرمایا کہ یہ خط تمہارے ہاتھ میں آجائے گا - (۸۸) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: جب گھر میں تھے اور ا بھی گرفتار نہیں ہوئے تھے اور نہ اس واقعہ کی کچھ خبر تھی اپنے دونوں ہاتھوں کو مخاطب کر کے فرمایا اے میرے ہاتھو! کیا تم ہتھکڑیوں کی برداشت کر لو گے؟ ان کے گھر کے لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا بات آپ کے منہ سے نکلی ہے؟ تب فرمایا کہ نما ز عصر کے بعد تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ کیا بات ہے۔تب نماز عصر کے بعد حاکم کے سپاہی آئے اور گرفتار کر لیا۔اور گھر کے لوگوں کو انہوں نے نصیحت کی کہ میں جاتا ہوں اور دیکھو ایسا نہ ہو کہ تم کوئی دوسری راہ اختیار کر و۔جس ایمان اور عقیدہ پر میں ہوں چاہئے کہ وہی تمہارا ایمان اور عقیدہ ہو۔گرفتاری کے بعد راہ میں چلتے وقت کہا کہ میں اس مجمع کا نوشاہ ہوں“۔(۸۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”سنا ہے کہ جب ان کو پکڑ کر لے جانے لگے تو ان سے کہا گیا کہ اپنے بال بچوں سے مل لو ان کو دیکھ لو مگر انہوں نے کہا کہ اب کچھ ضرورت نہیں یہ ہے بیعت کی حقیقت اور غرض و غائیت - (۹۰) سید احمد نور صاحب کا بیان ہے کہ گرفتاری کے روز عصر کا وقت قریب آیا تو گورنر نے پچاس سوار بھجوائے جو یکے بعد دیگرے سید گاہ آنے لگے۔حضرت صاحبزادہ صاحب مسجد میں آئے اور نماز عصر پڑھائی۔نماز کے بعد ان سواروں نے عرض کی کہ گورنر صاحب نے پیغام دیا ہے کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔آپ خود آئیں گے یا میں حاضر ہو جاؤں۔آپ نے فرمایا نہیں وہ ہمارے سردار ہیں میں خودان کے پاس چلتا ہوں۔آپ نے اپنا گھوڑا منگوایا لیکن گورنر کے بھجوائے ہوئے سواروں میں ایک اپنے گھوڑے سے اتر پڑا اور گھوڑا آپ کو سواری کے لئے پیش کر دیا۔