شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 94 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 94

94 اسے مانتا ہے وہ بھی کافر اور مرتد ہے۔اور اگر مولوی عبد اللطیف صاحب کو ڈھیل دی گئی تو خطرہ ہے کہ اور بہت سے لوگ مرتد ہو جائیں گے۔چنانچہ امیر حبیب اللہ خان نے خوست کے حاکم کے نام حکم جاری کیا کہ صاحبزادہ صاحب کو گرفتار کر کے پچاس سواروں کی حفاظت میں کا بل بھجوا دیا جائے۔اس دوران انہیں کوئی ملنے نہ آئے اور نہ ان سے کلام کرے۔ایک روز حضرت صاحبزادہ صاحب سیر کو جا رہے تھے اور سید احمد نور صاحب اور عبدالجلیل خان صاحب ساتھ تھے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور فرمایا کہ کیا تم ہتھکڑیوں کی طاقت رکھتے ہو۔پھر سید احمد نور سے فرمایا کہ جب میں مارا جاؤں تو تم میرے مرنے کی اطلاع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں کرنا۔اس پر سید احمد نور رو پڑے اور عرض کی کہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہی ہوں میں کب آپ سے جدا ہونگا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ نہیں نہیں جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت ہوئے تھے تو تم نے عرض کی تھی کہ حضور میں تو قادیان سے باہر نہیں جاسکتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تم سے فرمایا تھا کہ اس وقت تم صاحبزادہ صاحب کے ساتھ چلے جاؤ تم بعد میں قادیان واپس آ جاؤ گے۔حضور نے یہ تمہارے بارہ میں ارشاد فرمایا تھا ، میرے بارہ میں تو نہیں فرمایا تھا۔جب کچھ عرصہ تک آپ کے خطوط کا جواب نہ آیا تو بعض دوستوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر آپ یہاں سے جانا چاہیں تو ہم آپ کو اہل وعیال سمیت لے جائیں گے۔اس وقت موقعہ ہے آپ بتوں چلے جائیں۔آپ نے فرمایا کہ نہیں میں ہرگز نہیں جاؤں گا۔مجھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا ہے اِذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ میں یہاں سے ہر گز نہیں جاؤں گا۔(۸۷) سیدا حمد نور صاحب بیان کرتے ہیں کہ گرفتاری سے ایک روز پیشتر صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں آپ نے تمام واقعات تحریر کئے اس خط میں جو القاب آپ نے حضور کے لئے استعمال کئے تھے وہ بہت اعلیٰ