شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 96 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 96

96 سوار ہونے سے پہلے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام خط مجھے دے دیا اور کوئی بات نہ کی۔آپ سپاہیوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔میں بھی ساتھ ہولیا۔جب گاؤں سے باہر نکلے تو مجھ سے باتیں کرنے لگے فرمایا کہ جب آپ مجھے ملے تھے تو میں بہت خوش ہوا تھا اور خیال آیا تھا کہ ایک باز میرے ہاتھ آ گیا ہے۔اسی طرح میرے ساتھ گفتگو کر تے رہے۔میں دور تک آپ کے ساتھ چلتا رہا پھر آپ نے فرمایا اب اپنے گھر چلے جاؤ۔میں نے عرض کی میں آپ کی خدمت کے لئے ساتھ چلتا ہوں۔آپ نے مجھے منع فرمایا اور کہا کہ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمُ اليَ التَّهْلُكَة - تم اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔اس گاؤں سے اپنے گھر چلے جاؤ۔اس پر میں آپ سے رخصت ہو گیا۔(۹۱) صاحبزادہ سیدابوالحسن صاحب قدسی بیان کرتے ہیں کہ جب امیر حبیب اللہ خان کی طرف سے خوست کے حاکم عبد الرحمن خان کو حضرت صاحبزادہ صاحب کو گرفتار کر کے کابل بھجوانے کا حکم آیا تو اس نے آپ کو لکھا کہ آپ سے بات کرنی ہے۔آپ چھاؤنی میں آ جائیں۔چھاؤنی خوست سے چند میل کے فاصلہ پر ہے۔یہ حکم سات آدمی لے کر آئے تھے۔اس پر آپ نماز عصر پڑھنے کے لئے مسجد چلے گئے اور نماز سے فارغ ہو کر ان کے ساتھ روانہ ہوئے روانگی کے وقت رخصت ہونے کے لئے گھر نہ تشریف لے گئے بلکہ مسجد سے ہی روانہ ہو گئے۔ایک آدمی کو کہہ کے گھر سے قرآن مجید اور چھڑی منگوا لی اور اپنا گھوڑا منگوانے کی ہدایت کی۔حضرت صاحبزادہ صاحب خوست چھاؤنی میں گورنر سے ملے۔اس نے آپ کو بتایا کہ آپ کے بارہ میں کابل سے حکم آیا ہے کہ آپ کو کوئی نہ ملے اور نہ آپ سے کلام کرے اس لئے آپ کو علیحدہ کمرہ دیا جاتا ہے۔کمرہ پر پہرہ لگا دیا گیا۔گورنر نے یہ رعایت برتی کہ جب آپ کے عزیز ورشتہ دار ملنے کو آتے تھے تو ان کو اجازت دے دی جاتی تھی۔ایک روز آپ کے کچھ مرید ملنے آئے