شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 75
75 کچہری میں حضور ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے ، دری بچھی ہوئی تھی اور بہت سے دوست دری پر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاحبزادہ صاحب سے فارسی میں گفتگو فرماتے تھے۔گفتگو کے دوران صاحبزادہ صاحب نے عرض کی کہ حضور ! دل من میخواہد کہ پیش محمد حسین پر دم کہ مرا از کابل نظر آمد و شما را که نزدیک ترین هستید نظر نیامد - یعنی حضور میرا دل چاہتا ہے کہ مولوی محمد حسین ( بٹالوی) کوملوں اور ان سے کہوں کہ جو چیز مجھے کا بل میں نظر آ گئی وہ آپ کو نظر نہیں آئی حالانکہ آپ تو ( قادیان سے ) نزدیک ترین مقام پر رہتے ہیں۔(۴۹) سید احمد نور صاحب بیان کرتے ہیں کہ قادیان میں قیام کے دوران انہوں نے یہ بات دیکھی کہ قادیان کے رہنے والے احباب حضرت صاحبزادہ صاحب کے ساتھ بہت عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔(۵۰) ان ایام میں صوبہ سرحد کے ایک احمدی دوست خان عجب خان آف زیده تحصیلدار بھی قادیان آئے ہوئے تھے۔انہوں نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے واپس جانے کی اجازت مانگی تو حضور نے انہیں اجازت دے دی۔عجب خان صاحب نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے ذکر کیا کہ میں نے حضور سے تو اجازت لے لی ہے لیکن حضرت مولانا نورالدین صاحب سے رخصت نہیں ہوا اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ ان سے ضرور رخصت لینا کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ کے خلیفہ اول ہونگے۔قادیان میں قیام کے دوران حضرت صاحبزادہ صاحب نے حضرت مولانا نورالدین صاحب سے درخواست کر کے حدیث بخاری کے دو تین صفحے پڑھے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ میں نے اس لئے کیا کہ میں حضرت مولانا صاحب کے شاگردوں میں شامل ہو جاؤں کیونکہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ اول ہو نگے۔(۵۱) مولوی عبدالستار خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان سے فرمایا کہ قادیان شریف میں وہی آرام سے رہتا ہے جو درودشریف بہت پڑھتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیت سے محبت رکھتا ہے۔مسجد مبارک میں