شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 74 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 74

74 سامنے میدان میں حضرت مسیح موعود کے لئے ایک کرسی بچھائی گئی ، اردگر د ا حباب کا حلقہ تھا جس میں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا بل اور عجب خان تحصیلدار آف زیدہ بھی شامل تھے۔حضرت نے گفتگو کی ابتدا اپنے فارسی شعر سے آسمان بار دنشاں الوقت می گوید زمین این دو شاہد از پئے تصدیق من ایستاده اند سے شروع کی اور فرمایا کہ ”میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور زمین نے بھی گواہی دی مگر یہ لوگ نہیں مانتے۔فرمایا کہ مانیں گے اور ضرور مانیں گے مگر میرے مرنے کے بعد میری قبر کی مٹی بھی کھود کر کھا جائیں گے اور کہیں گے کہ اس میں بھی برکت ہے مگر اس وقت کیا ہوگا ے جب مرگئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم تیرے ایسے پیار پر حضرت کا یہ فرمانا تھا کہ صاحبزادہ صاحب۔۔۔۔۔زار زار رونے لگے - (۴۶) فیروز الدین صاحب سیالکوٹی کی روایت ہے کہ : ”جب حضور جہلم تشریف لے گئے تو میں ساتھ تھا۔حضرت شہزادہ عبداللطیف شہید بھی ساتھ تھے۔اس وقت حضرت شہزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے فرمایا کہ: حضور میرا 666 خون ٹپک رہا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میرا خون کا بل میں آبپاشی کا کام دے گا۔“ ( ۴۷ ) مرزا محمد افضل صاحب ولد مرزا محمد جلال الدین صاحب مرحوم ساکن بلانی ضلع گجرات بیان کرتے ہیں کہ : ” جب ۱۹۰۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہلم تشریف لائے تھے تو میں بھی وہاں گیا تھا۔وہاں بے پناہ ہجوم تھا۔اس سفر میں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید بھی ساتھ تھے۔ایک موقعہ پر صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ: خدا نے مجھے تین بار سر دینے کو فرمایا ہے پس میں دوں گا۔‘ (۴۸) جناب ماسٹر اللہ دتہ صاحب محلہ دار الرحمت قادیان بیان کرتے ہیں کہ : جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرم دین بھین والے مقدمہ کے سلسلہ میں جہلم تشریف لے گئے تھے تو صاحبزادہ سید عبداللطیف رضی اللہ عنہ حضور کے ساتھ تھے۔احاطہ