شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 73
73 آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کی سچائی کو آفتاب سے بھی زیادہ روشن کر دکھائے گا وہ وقت ہوگا که ایمان ثواب کا موجب نہ ہوگا۔ایمان یہ ہے کہ کچھ مخفی ہو تو مان لے۔جو ہلال کو دیکھ لیتا ہے تیز نظر کہلاتا ہے لیکن چودھویں کے چاند کو دیکھ کر شور مچانے والا دیوانہ کہلائے گا۔اس موقع پر مولانا مولوی عبداللطیف صاحب کا بلی نے عرض کی کہ حضور میں نے ہمیشہ آپ کو سورج ہی کی طرح دیکھا ہے کوئی امر مخفی یا مشکوک مجھے نظر نہیں آیا پھر مجھے کوئی ثواب ہوگا یا نہیں؟ فرمایا آپ نے اس وقت دیکھا جب کوئی دیکھ نہ سکتا تھا۔آپ نے اپنے آپ کو نشانہ ابتلاء بنا دیا اور ایک طرح سے جنگ کے لئے تیار کر دیا۔اب بچ جانا یہ خدا کا فضل ہے۔ایک شخص جو جنگ میں جاتا ہے اس کی شجاعت میں تو کوئی شبہ نہیں اگر وہ بچ جاتا ہے اور اسے کوئی گزند نہیں پہنچتا تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اسی طرح آپ نے اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا اور ہر دکھ اور ہر مصیبت کو اس راہ میں اٹھانے کے لئے تیار ہو گئے اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔(۴۴) میاں عبدالرزاق صاحب ولد میاں رحیم بخش صاحب سکنہ سیالکوٹ شہر بعدۂ دار الفضل قادیان بیان کرتے ہیں : ” جب حضرت صاحب جہلم تشریف لے گئے تو اس موقعہ پر ایک دن پہلے جہلم چلا گیا تھا۔جب اسٹیشن پر گاڑی پہنچی تو وہاں بہت خلقت دیکھنے آئی ہوئی تھی۔سٹیشن سے حضور کو ایک انتظام کے ساتھ اس کوٹھی میں پہنچایا گیا جو دریائے جہلم کے کنارہ پر حضور کی رہائش کے لئے تھی۔مولوی عبداللطیف صاحب شہید مرحوم کا بل والے بھی حضرت صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔‘‘ (۴۵) ملک عطاء اللہ صاحب ولد ملک محمد رمضان صاحب گجرات بیان کرتے ہیں کہ : جہلم مولوی کرم دین بھیں والے مقدمہ کے سلسلہ میں جب حضرت صاحب تشریف لے گئے تو میں اس گاڑی میں یہاں سے (گجرات سے ) سوار ہوا۔ہر سٹیشن پر بے شمار ہجوم تھا۔جہلم میں بھی بہت بھیڑ تھی جب حضور کچہری تشریف لے گئے تو عدالت کے