شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 398 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 398

398 تھے لیکن کثرت زدو کوب اور قیدوں کی وجہ سے جو آپ احمدیت کی وجہ سے حکامِ افغانستان کے ہاتھوں کئی سال تک بھگتتے رہے۔آپ کے قویٰ میں ضعف اور اضمحلال پیدا ہو گیا تھا۔نیز پیٹھ کبڑی ہوگئی تھی۔آپ کی طبیعت میں جوانمردی سنجیدگی اور بشاشت ودیعت کی گئی تھی۔میں نے آپ کو ملتے وقت ہمیشہ مسکراتے ہوئے دیکھا۔آپ آخری عمر میں ہجرت کر کے قادیان دارالامان تشریف لے آئے تھے اور نہایت گمنامی اور فقر کی حالت میں زندگی بسر کرتے رہے۔مگر ساتھ ہی ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے۔باوجود اس کے کہ انہیں ضروریات بھی پیش آتیں لیکن انہوں نے استغنائے قلبی کے سبب کبھی کسی پر اپنی احتیاج کو ظاہر نہ ہونے دیا۔قرآن کریم سے ان کو بے حد محبت تھی دن رات نہایت شیر میں لہجہ میں تلاوت کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض فارسی نظمیں ان کو یاد تھیں جنہیں اکثر پڑھا کرتے۔تبلیغ احمدیت کا اتنا جوش تھا کہ اپنی وفات سے پیشتر کسی شخص کو بہ سبب قدیم دوست ہونے کے تبلیغ کرنے کے لئے پشاور گئے وہیں نمونیا ہو گیا اور پھر اس بیماری میں وہاں سے واپس قادیان روانہ ہو گئے جب قادیان تشریف لائے تو پہلے مرض کی کچھ تخفیف ہوگئی تھی۔پھر بیماری نے عود کیاشتی کہ ایک ہفتہ کے بعد مؤرخہ ے دسمبر ۱۹۳۱ء کو فوت ہو گئے انا للہ و انا الیه راجعون - ۸ دسمبر کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے جنازہ پڑھایا اور آپ بہشتی مقبرہ میں اپنے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار مبارک کے شرقی جانب دفن ہوئے۔مرحوم کی کوئی اولا د نہیں صرف بیوی زندہ ہے۔یوں تو آپ کی زندگی کا ہر ایک شعبہ اس قابل ہے کہ تاریخ احمدیت کے صفحہ پر سنہری حروف میں ثبت رہے لیکن اس وقت مختصراً ان میں سے ایک اہم واقعہ سپر د قلم کر کے پیش کر دیتا ہوں۔اس بات سے تو غالبا اکثر احمدی بھائی واقف ہوں گے کہ جس وقت والد بزرگوارم ( سید عبداللطیف صاحب) کابل میں شہید کئے گئے تو کچھ مدت کے بعد آپ کی نعش پتھروں سے نکال کر کابل کے کسی قبرستان میں دفن کر دی گئی تھی ہم ( یعنی والد صاحب کا خاندان ) کو