شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 399 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 399

399 اس وقت ترکستان جلا وطن کر دیا گیا تھا اور ہم میں سے کسی کو سوائے آپ کی شہادت کے اور کسی بات کا علم نہ تھا اس وقت جناب محمد میر و صاحب سید گاہ ( جو ہماری اصلی جائے پیدائش کا نام ہے ) خوست میں رہا کرتے تھے۔چونکہ وہ فطرتاً شجاع اور بہادر تھے اور احمدیت کے رنگ نے تو اور بھی ان کو دلیر بنا دیا تھا۔پھر جذ بہ محبت تھا جو آپ کے دل میں اپنے پیارے دوست کے متعلق تھا۔ان حالات میں آپ نے وفاداری کا ایسا نمونہ پیش کیا۔جو نہایت ہی قابل تعریف تھا۔محمد میر و صاحب نے فیصلہ کیا کہ نعش کو سر زمین کا بل سے لا کر سید گاہ میں دفن کرنا چاہیئے۔آپ کے اس ارادہ کا اور کسی کو علم نہ تھا۔آپ سفر کی ضروریات مہیا کر کے کا بل روانہ ہو گئے اور وہاں پہنچ کرکسی واقف کار دوست سے مزار کا پتہ لگایا اور ایک دوسرے سپاہی کی مدد سے تابوت کو نکال لیا۔پھر اپنی پشت پر اٹھا کر کہیں دور کسی تنہائی کی جگہ میں رکھ آئے۔چونکہ اس سے تھوڑی مدت ہی پیشتر کا بل میں سخت ہیضہ پڑ چکا تھا اس لئے کوئی کرایہ دار کسی نعش کو اس وقت تک لے جانے کے لئے تیار نہ تھا۔جب تک یہ ثابت نہ ہو جا تا کہ متوفی مرض ہیضہ سے فوت نہیں ہوا اور محمد میر و صا حب کے لئے یہ ثبوت بہم پہنچانا ایک امر ناممکن تھا۔آپ یہ فرمایا کرتے تھے جب میں کسی سواری ملنے سے مایوس ہو گیا تو ایک دفعہ یہ ارادہ کیا کہ تابوت کو میں خود اپنی پشت پر سید گاہ پہنچا دوں۔( کابل سے سید گاہ تک ایک مضبوط آدمی کے لئے چار روز کا راستہ ہے ) اور یہ کام میرے لئے کوئی مشکل نہیں تھا لیکن بعد میں خیال آیا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو راز افشاء ہو جائے گا اور میرے راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔جب مجھے ہر طرف سے نا کا می نظر آئی اور میں کثرت غم والم سے بے تاب ہو رہا تھا تو رات کو خواب میں مجھے حضرت شہید صاحب شان وشوکت کے ساتھ نہایت عمدہ کپڑے پہنے نظر آئے۔میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور آنکھ سے ایک ایسا اشارہ کیا جس سے مجھے اطمینان حاصل ہو گیا۔صبح کو اٹھا تو دل بالکل مطمئن ہو چکا تھا فوراً شہر کو چلا۔شہر پہنچتے ہی ایک نچر والا ملا اور وہ فوراً تابوت لے جانے پر طیار ہو گیا۔دوسرے دن تابوت لے کر ہم چل