شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 397
397 گیا۔تو ملا میر و از خودان کے پیچھے پیچھے کا بل آگئے۔کابل کے قریب آکر ان کو سید احمد نور ملے اور انہوں نے بتایا کہ حضرت صاحبزادہ سید محمد عبداللطیف صاحب کو سنگسار کر دیا گیا ہے اور یہ کہ سید احمد نور صاحب نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو بعض آدمیوں کی مدد سے رات کے وقت پتھروں سے نکال کر خفیہ طور پر کابل کے ایک قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔اس طرح ملا میر و اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے خاندان کو آپ کی شہادت کا علم ہوا۔اس واقعہ کے قریباً ایک سال کے بعد ملا میر و صاحب حضرت صاحبزادہ صاحب کا تابوت کا بل سے نکال کر ان کے گاؤں سید گاہ میں لے آئے اور وہاں ان کو دفن کر دیا۔ملا میرو کے بارہ میں صاحبزادہ سید ابوالحسن قدسی صاحب نے ایک مضمون ان کی وفات پر اخبار الفضل میں لکھا تھا جو درج کیا جاتا ہے۔ایک گمنام فدائے احمدیت کی وفات محمد میر وصاحب افغان کی زندگی کا ایک عظیم الشان واقعہ أن فدایان ملت میں سے جن کی سرگذشت قوم کے نوجوانوں کے لئے سبق آموز ہوتی ہے ایک یہ شخص بھی ہے جس کے حالات صدق وصفاء شجاعت و ایثار کا اس وقت میں ذکر کرنا چاہتا ہوں اور جس کا نام نامی محمد میر و صا حب تھا۔یہ جناب مولوی عبدالستار صاحب افغان عرف بزرگ صاحب) کے برا در خورد تھے آپ والد بزرگوارم ( حضرت سید عبد اللطیف صاحب شہید ) کے مخلص دوستوں میں۔تھے اور آپ ہی کے ذریعہ انہوں نے دعویٰ سنتے ہی احمدی ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت مبارک میں رہنے کا شرف حاصل کیا۔قد وقامت اور حلیہ آپ کا قد لمبا پتلا خوش نما چہرہ ڈاڑھی چھوٹی اور باریک تھی۔بدن کے اعضاء مضبوط