شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 396 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 396

396 فرمایا کہ مجھے تو خطرہ معلوم ہوتا ہے۔یہ تمام خطوط امیر حبیب اللہ خان اور اس کے چھوٹے بھائی سردار نصر اللہ خان کو پہنچا دیئے گئے۔نتیجہ حکومت کا بل نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو خوست سے بلوا کر تو قیف خانہ میں ڈال دیا اور پھر جولائی ۱۹۰۳ء کو ان کو سنگسار کر دیا گیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے بعد مولوی عبد الغفا ر صاحب ۱۹۰۴ء میں قادیان آگئے اور یہیں رہنے لگے۔ان کے بیٹے عبداللہ خان صاحب بھی قادیان آگئے اور شرف صحابیت حاصل کیا۔مولوی عبد الغفار صاحب کی بیٹی۔عائشہ صاحبہ کچھ عرصہ خوست میں رہیں اور حضرت خلیفۃ اصیح اوّل رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قادیان آ گئیں۔ان کی شادی مولوی غلام رسول خان افغان صحابی شیر فروش سے ہوئی تھی۔مولوی عبدالغفار خان صاحب قادیان میں بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔(۳۷) خاکسار مرتب رسالہ ھذا سید مسعود احمد خاکسار نے قادیان اور ربوہ میں مولوی غلام رسول صاحب افغان اور محترمہ عائشہ صاحبہ کو دیکھا ہے اسی طرح عبداللہ خان صاحب سے بھی بارہا ملاقات کی ہے۔یہ تینوں بہت مخلص اور نیک وجود تھے ہمارے استاد مولوی محمد شہزادخان صاحب افغان مولوی غلام رسول صاحب کے داماد تھے۔) ملا میر وصاحب صحابی برادر اصغر بزرگ صاحب ان کا نام محمد مہروز خان (یا) امیر احمد خان تھا یہ دونوں نام مختلف روایات میں درج ہیں۔ملا میرو کے والد صاحب کا نام دیندار خان تھا جو احمدیت سے پہلے فوت ہو چکے تھے۔ان کا وطن بل خیل، خوست صوبہ پکتیا افغانستان تھا۔آپ کی قوم منگل تھی اس کی ایک شاخ شریف زئی سے آپ کا تعلق تھا جب حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے بعد ان کی اولاد اور خاندان کے دوسرے افراد کو حکومت کابل کے حکم پر خوست سے گرفتار کر کے فوجی پہرہ میں کا بل لے جایا