شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 395
395 مبعوث کیا گیا ہوں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت کے لئے بھیجا گیا ہوں اور قرآن شریف اور احادیث کے مطابق وقت مقررہ پر آیا ہوں۔میں نے قادیان میں چند ماہ گزارے ان کا دعویٰ سنا ان کے افعال اور اقوال کو غور سے دیکھا۔میں نے انہیں سچا پایا۔ان کے ماننے سے مجھے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل ہوا۔سو میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں کہ یہ وہی ہے جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد آنے کی پیشگوئی فرمائی تھی اور جس کے آنے کا لوگ انتظار کیا کرتے تھے۔میں اُس پر ایمان لے آیا ہوں آپ کو چاہئیے کہ اُسے مان لیں تا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں آپ کی بہتری اسی میں ہے۔میرا فرض آپ کو یہ پیغام پہنچانا تھا۔میں اپنے فرض سے سبگد وش ہوتا ہوں۔یہ خطوط آپ نے مولوی عبد الغفار خان صاحب کو دیئے جو انہیں لے کر بلا توقف کا بل روانہ ہو گئے اس وقت سردی کا موسم تھا اور برف پڑی ہوئی تھی لیکن مولوی عبد الغفار صاحب نے اس کی پرواہ نہ کی اور حسب ہدایت حضرت صاحبزادہ صاحب فوراً کا بل روانہ ہو گئے۔مولوی عبدالغفار خان صاحب ان تمام لوگوں کو خوب جانتے تھے کیونکہ وہ اس سے قبل حضرت صاحبزادہ صاحب کی معیت میں چند سال کابل رہ چکے تھے۔انہوں نے یہ پانچوں خطو ط مکتوب الیھم کو پہنچا دیئے۔مستوفی الملک مرزا محمد حسین خان نے اپنے نام خط وصول کر کے مولوی عبد الغفار خان صاحب سے کہا کہ تم واپس چلے جاؤ خط کا جواب صاحبزادہ صاحب کو ڈاک کے ذریعہ بھیجوا دیا جائے گا۔مولوی عبد الغفار خان صاحب نے واپس آ کر حضرت صاحبزادہ صاحب سے عرض کی کہ مجھے تو ان خطوں کا کوئی جواب نہیں ملا البتہ مرزا محمد حسین خان نے یہ کہا تھا کہ تم واپس چلے جاؤ جواب ڈاک کے ذریعہ بھجوا دیا جائے گا۔یہ سُن کر حضرت صاحبزادہ صاحب نے