شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 320
320 کو معلوم ہوا کہ امیر امان اللہ خان بادشاہت چھوڑ کر کابل سے جاچکا ہے اور امیر عنایت اللہ خان بادشاہ مقرر ہوا ہے۔نئے بادشاہ کی تخت نشینی کی رسم ملا صاحب شور بازار کے چھوٹے بھائی نے ادا کی جن کو کچھ دن پہلے امان اللہ خان نے قید خانہ سے رہا کیا تھا۔کابل میں نئے بادشاہ کے تقرر پر تو ہیں چھوڑیں گئیں تو عوام کو یقین ہو گیا کہ امیر امان اللہ خان کے اقتدار کا دور ختم ہو چکا ہے اس کی حکومت کا آخری سورج ڈوب چکا ہے اور اب امیر عنایت اللہ خان ابن امیر حبیب اللہ خان بادشاہ مقرر ہوا ہے۔امیر عنایت اللہ خان اور بچہ سقاؤ کے درمیان گفت و شنید کے لئے ایک وفد کی ترسیل جب امان اللہ خان بادشاہت سے دستبردار ہو کر قندھار چلا گیا اور امیر عنایت اللہ خان کی بادشاہت کا اعلان ابھی نہیں ہوا تھا اور ارک سے باہر کے سپاہی اور کا بل کے عوام اس سے بے خبر تھے اور نہ ان کو امان اللہ خان کے چلے جانے کا علم تھا۔تو ارک میں اس بات پر مشورہ ہوا کہ بچہ سقہ کے پاس ایک وفد بھیج کر اس کو اس تبدیلی سے باخبر کیا جائے اور اس پر زور دیا جائے کہ امیر امان اللہ خان جس کی خلافِ اسلام اصلاحات کی وجہ سے اکثر علماء افغانستان اور پیر صاحبان اس سے ناراض تھے اور اس کو کافر و ملحد قرار دیتے تھے اور اس کی حکومت کو ختم کرنا چاہتے تھے اب وہ تو دستبردار ہو کر چلا گیا ہے اور اس کی جگہ سردار معین السلطنت عنایت اللہ خان افغانستان کا بادشاہ بن چکا ہے۔ظاہر ہے کہ اب وجہ تنازع باقی نہیں رہی اور بچہ سقاؤ کو امیر عنایت اللہ خان سے تو کوئی شکایت نہیں اس لئے اس کو نئے بادشاہ کے خلاف بغاوت ترک کر دینی چاہئیے اب اس کے لئے لڑائی جاری رکھنے اور مسلمانوں کے قتل سے خون میں ہاتھ رنگنے کا کوئی شرعی عذر باقی نہیں رہا لہذا اس کو نئے امیر کی اطاعت کرنی چاہئیے۔چنانچہ علماء کا ایک وفد ترتیب دیا گیا جس کا لیڈر ملا شور بازار کا چھوٹا بھائی ملا شیر آقا تھا۔اس وقت گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی لیکن یہ وفد سفید جھنڈا لہرا تا ہوا کا بل سے نکلا اور