شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 319 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 319

319 سخت بے دل ہو گئی اور رات کی تاریکی میں جس کا جس طرف منہ اٹھا بھاگ کر فوجی کیمپ سے غائب ہو گیا بھگوڑے اپنا بہت سا سامان اور ہتھیار چھوڑ کر بھاگ گئے۔صبح بچہ سقاؤ کی فوج کو سینکڑوں بندوقیں۔گولا بارود، بوٹ کپڑے، خیمے، مشین گنیں اور چند تو ہیں ہاتھ آگئیں۔سردار محمد عمر خان سور کی فوج کی اس تباہ کن اور رسوائی آمیز شکست سے سقایوں کا کا بل پر حملہ بہت آسان ہو گیا۔اس شکست کی اطلاع امیر امان اللہ خان کو رات کے وقت ملی اور اسی خبر کے ملنے پر اس نے افغانستان پر آئندہ حکومت کرنے کی جملہ توقعات کو فراموش کر دیا ان حالات میں جب کہ سمت مشرقی میں بغاوت جاری تھی اور وہاں ابھی تک سکون نہیں ہوا تھا اور دوسری طرف بچہ سقاؤ کی فوج جانب شمالی سے حکومت کے بیرونی دفاع کو توڑ کر کابل آن پہنچی تھی امیر امان اللہ خان کا تذبذب بالکل فطرتی تھا اسے چاروں طرف سے مایوسی گھیرے ہوئے تھی۔اس کے خیالات کچھ اس قسم کے تھے کہ سمت شمالی کے باغی اگر کل تک کابل کی دیواروں کے ساتھ پہنچ گئے اور پھر انہوں نے کابل پر قبضہ کر لیا تو میرا حشر کیا ہوگا۔وہ مجھے گرفتار کر کے مار دیں گے مجھے فوراً جان بچا کر کابل سے نکل جانا چاہیے۔میں اپنے بال بچوں کو قندھار بھجوا چکا ہوں اس لئے سوائے قندھار کے کسی اور مقام کی طرف نہ جانا چاہیے قندھاریوں کو ہم قوم ہونے کی وجہ سے مجھ سے کچھ ہمدردی ہو سکتی ہے۔اس رات ان خیالات کی وجہ سے امیر امان اللہ خان ایک لمحہ کے لئے بھی آرام نہ کر سکا۔آخر اس نے اپنے بڑے بھائی سردار عنایت اللہ خان کو بلا کر کا بل سے چلے جانے کا عندیہ ظاہر کیا۔اس نے دستبرداری کے اعلان پر بھی دستخط کر دیئے اور سردار عنایت اللہ خان کو افغانستان کی بادشاہت قبول کرنے پر راضی کر لیا۔صبح ہوتے ہی امیر امان اللہ خان کابل سے قندھار کی طرف با حسرت یاس رخصت ہو چکا تھا اور امیر عنایت اللہ خان افغانستان کا برائے نام امیر اور بے اختیار بادشاہ تھا۔امیر امان اللہ خان صبح آٹھ بجے کے قریب چلا آیا تھا۔اُس وقت ارک کے دروازے بند تھے ایک دو گھنٹوں کے بعد تمام عمائدین وا کا برین شہر کو ارک کے اندر طلب کیا گیا اس وقت لوگوں