شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 321 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 321

321 باغ بالا کے پاس سرکاری دفاعی لائن کے قریب آ کر ٹھہر گیا اس وقت تک سرکاری فوجیوں کو فائر بند کرنے کی ہدایت دی جا چکی تھی تا کہ صلح کی گفت و شنید پر امن ماحول میں ہو۔ملا شیر آقا نے کا بل کا دفاع کرنے والے سپاہیوں کے پاس جا کر موٹر رکوائی اور قریب کے سپاہیوں کو مخاطب ہو کر فارسی زبان میں یہ جملے کہے۔وو او بچہ ہا! حالا شما برائے چہ جنگ می کنید ؟ اگر برائے امان اللہ خان جنگ مے کنید من بشما گویم که اوگر یخته است جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے بچو! تم اب کس کے لئے جنگ کر رہے ہو؟ اگر تم امان اللہ خان کے لئے جنگ کر رہے ہو تو میں تم کو کہتا ہوں کہ وہ تو بھاگ چکا ہے۔ملا شیر آقا نے یہ فقرے تو کہہ دیئے اور سپاہیوں کو صاف الفاظ میں بتا دیا کہ امان اللہ خان تو اب بادشاہ نہیں رہا وہ تو کابل سے بھاگ گیا ہے اور تم جنگ کیوں اور کس کی خاطر کر رہے ہو؟ لیکن یہ نہیں بتایا کہ امان اللہ خان کی جگہ اب امیر عنایت اللہ خان معین السطنت بادشاہ بن چکا ہے اور یہ کہ میں اس کی جانب سے بچہ سقاؤ کے پاس وفد لے کر جا رہا ہوں تا کہ وہ اب جنگ بند کر دے اور نئی حکومت کی ماتحتی قبول کر لے۔لیکن یہ اس نے نہیں کہا۔ملا شیر آقا کے طلسماتی کلمات نے سرکاری فوج پر فوری طور پر عجیب اثر کیا اور سپاہی یہ جان کر کہ اب کوئی بادشاہ نہیں رہا اور ان کے سر پر کوئی وجود ایسا نہیں جس کی کمان اور جس کی ملازمت میں وہ لڑائی جاری رکھ سکیں اپنے مورچے چھوڑ کر تر بتر ہوگئیں اور سرکاری دفاع کا خانہ خالی ہو گیا۔دوسری طرف بچہ سقاؤ نے جب دیکھا کہ سرکاری فوج کے فائر بند ہو چکے ہیں اور فوج اپنے دفاعی مورچے چھوڑ کر منتشر ہو گئی ہے اور افراتفری میں بھاگ رہی ہے تو وہ سمجھ گیا کہ قدرت نے اسے اب ایسا موقعہ دیا ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر خود امیر بن سکتا ہے۔چنانچہ اس نے ملا شیر آقا کی تجاویز ماننے سے صاف انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ اب عنایت اللہ خان بھی بادشاہت سے دستبردار ہو جائے اب وہ خود افغانستان کا امیر ہے چنانچہ اس نے