شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 27 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 27

27 27 اور اردو، زبانوں میں چھوٹے چھوٹے رسالوں کی صورت میں چھاپ کر انہیں قبائلی علاقوں میں تقسیم کروانے کا انتظام کیا تھا۔مولوی عبد الرحمن صاحب افغانستان جاتے ہوئے یہ رسائل اور پمفلٹس اپنے ساتھ لے گئے اور افغانستان جا کر ان کو وہاں پر تقسیم کیا اور وہاں کے علماء سے بھی اس زمانہ میں جہاد بالسیف کے بارہ میں گفتگو کی۔اس کی رپورٹ امیر عبدالرحمن خان کو کی گئی۔اس نے مولوی عبد الرحمن کو بلا کر بیان لیا اور پھر ان کو جیل میں ڈال دیا اور مولوی صاحب کے عقائد اور ان کتابوں کے مضمون کو اپنے خیالات کے خلاف پا کر ان کے قتل کا حکم دے دیا۔چنانچہ مولوی عبد الرحمن صاحب کو جیل میں ہی دم بند کر کے شہید کر دیا گیا۔(۲۴) سید محمود احمد افغانی شنگہ صوبہ پکتیا کی تحقیق کے مطابق حضرت مولوی عبد الرحمن (< صاحب کی شہادت ۲۰ جون ۱۹۰۱ء کو ہوئی۔(٨ مولوی عبد الرحمن صاحب کی شہادت کے بارہ میں سید احمد نور صاحب بیان کرتے ہیں: ا میر عبدالرحمن کے پاس کسی نے رپورٹ کی کہ مولوی عبدالرحمن جو منگل قوم کے ہیں اور جو آپ سے دو سو چالیس روپیہ پاتے ہیں۔کسی غیر ملک میں چلے گئے ہیں۔امیر عبدالرحمن خان کی طرف سے گورنر خوست کے نام حکم پہنچا کہ مولوی عبدالرحمن کو گرفتار کیا جاوے۔گورنر نے شہید مرحوم کو اطلاع دی کہ ایسا حکم امیر کی طرف سے آیا ہے۔جب مولوی عبدالرحمن کو معلوم ہوا تو وہ چھپ گئے۔اس کے بعد دوبارہ حکم ہوا کہ اس کا مال واسباب ضبط کیا جاوے اور اس کے تمام اہل و عیال کو یہاں بھیج دیا جائے۔جب مال و اسباب ضبط ہو گیا اور اہل وعیال کو کا بل بھیجا گیا۔تو عبد الرحمن شہید خود امیر کے پاس چلا گیا۔امیر نے پوچھا کہ غیر علاقہ میں کیوں گئے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ سرکار کی خدمت کے لئے قادیان گیا تھا اور جس شخص نے دعوی مسیحیت کا کیا ہے۔اس کی کتابیں اپنے ساتھ لایا ہوں۔امیر نے ان سے کتابیں لے کر ان کو قید میں بھیج دیا۔اس کے بعد کچھ معلوم نہیں ہوا کہ وہ کہاں گئے اور کیا حال ان کا ہو یا اندر ہی غائب ہو گئے۔اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔اور افواہ اس کی یہ ہے کہ ان کے منہ پر تکیہ رکھ کر ان کا سانس بند کر کے مار دیا گیا۔‘ (۲۵) 66