شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 26
26 کے کمرہ کے باہر بہت سے احمدی احباب اور دیگر لوگ موجود تھے۔جنہوں نے یہ توہین آمیز الفاظ سنے اور مولوی محمد حسین صاحب کی ذلت کے بارہ میں پیشگوئی کے پورا ہونے کے گواہ بن گئے۔اس موقعہ پر منجملہ اور احمدی احباب کے مولوی عبد الرحمن صاحب کا بلی بھی عدالت کے باہر موجود تھے۔اخبار الحکم میں اس کا ذکر ہے اور دیگر احباب کے ناموں کے ساتھ جواس موقعہ پر موجود تھے۔مولوی عبد الرحمن صاحب کا نام بھی اخبار میں درج ہے۔(۲۲) اخبار الحکم قادیان مؤرخہ ۱۹ مئی ۱۸۹۹ء میں ایک فہرست اُن احباب کی شائع ہوئی ہے۔جنہوں نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ ہاؤس کی تعمیر کے لئے چندہ دیا تھا۔اس فہرست میں ایک نام اس طرح درج ہے: میاں عبد الرحمن صاحب کا بلی اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مولوی عبدالرحمن صاحب ۱۸۹۹ء میں بھی قادیان آئے تھے۔(۲۳) جناب قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمد یہ صوبہ سرحد تحریر کرتے ہیں کہ آخری دفعہ مولوی عبد الرحمن صاحب دسمبر ۱۹۰۰ ء میں قادیان آئے اور واپسی پر براستہ پشاور افغانستان گئے۔قیام پشاور کے دوران جناب خواجہ کمال الدین صاحب وکیل کے بالا خانہ پر بیرون کا بلی دروازہ رہائش رکھی اور کچھ عرصہ قیام کر کے وطن روانہ ہوئے۔ان دنوں میں سرحدی علاقوں کے قبائلی جہاد کے نام پر بے گناہ انگریزوں کو جو سرحد میں مختلف مقامات پر رہائش رکھتے تھے۔ان کے ناحق قتل و خون میں مصروف رہتے تھے اور اپنے آپ کو غازی قرار دیتے تھے۔یہ حالات دیکھ کر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رسالہ لکھ کر شائع فرمایا تھا۔جس میں اسلامی تعلیم کی رو سے جہاد کی حقیقت واضح کی گئی تھی اور مسلمانوں کو غلط قسم کے جہاد بالسیف سے منع کیا گیا تھا۔اسی طرح انجمن حمایت اسلام لا ہور اور بعض غیر احمدی علماء نے بھی اس قسم کے قتل و غارت کو غلط اور ناجائز قرار دیا تھا اور اپنے موقف کی اشاعت کے لئے فتاوی عربی ، فارسی