شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 278
278 کیونکہ امیر افغانستان اور اس کے علماء صاحب شریعت نہیں ہیں۔اس کے مقابلہ میں اسلام کے ۷۲ فرقہ کے مسلمان تصدیق کرتے ہیں کہ امیر اور اس کے علماء اور دیگر اس کے ہم مذہبوں نے شریعت اسلام کو سمجھا ہی نہیں۔اندریں حالات وہ کسی کو سنگ باری کی موت مار دینے کا کیا حق رکھتا ہے۔جو اس کے مذہب کی تائید نہیں کرتے‘ (۵۸) بمبئی کے اخبار انڈین ڈیلی میل مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۹۲۴ء میں یہ خبر شائع ہوئی : لنڈن ۱۸ ستمبر۔آج ایک جلسہ ہوا جو انگریزوں اور ہندوستانیوں پر مشتمل تھا۔ایسکس ہال ایسکس سٹریٹ سٹرینڈ لنڈن میں نعمت اللہ خان کے کابل میں سنگسار کئے جانے کے متعلق منعقد ہوا۔ڈاکٹر والٹر واش نے جو کہ صدر جلسہ تھے بیان کیا کہ ہر وہ شخص جس میں ایک ذرہ بھر بھی انسانیت کا مادہ ہو وہ مذہبی بناء پر تشدد کئے جانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے گا۔خواہ تشدد کیسا ہی ضعیف کیوں نہ ہو۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے نعمت اللہ خان کے قتل کے واقعات بیان کر کے فرمایا کہ شہید مرحوم کے خلاف یہ جرم لگایا گیا ہے۔کہ وہ اسلام میں احمدیت سے تعلق رکھتا تھا۔شہید کا جسم اس وقت تک پتھروں کے بڑے ڈھیر کے نیچے دبا ہوا ہے اور اس کے والد کو یہ اجازت افغان گورنمنٹ نے نہیں دی کہ وہاں سے اس کے جسم کو نکال کر با قاعدہ دفن کرے۔”اس کے بعد ایک ریزولیوشن صدر جلسہ کی طرف سے پیش کیا گیا جس کی کرنل ویلکر اور دو ہندوستانی بیرسٹروں نے تائید کی۔اس ریزولیوشن میں جو بہ اتفاق رائے (سے) پاس ہوا یہ قرار پایا کہ ضمیر کی آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔اور یہ کہ افغان گورنمنٹ کو یہ اطلاع بھیجی جائے کہ یہ مجلس اس گورنمنٹ کے اس فعل کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتی اور نہایت درجہ قابل ملامت سمجھتی ہے تا کہ آئندہ گورنمنٹ کا بل ایسے طریق کے اختیار کرنے سے اجتناب کرے جو کہ دنیا کی