شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 279
279 مہذب اقوام کی نظر میں حد درجہ قابل نفرین ہے۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اس جلسہ کی کارروائی کی اطلاع افغان گورنمنٹ اور لیگ آف نیشن کے پریذیڈنٹ کو دی جائے۔‘ (۵۹) بعض مسلمان اخبارات اور متعصب علماء کا نا گوار رویہ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں نا قابلِ تردید ثبوت بہم پہنچائے گئے کہ یہ امر شک و شبہہ سے بالا ہے کہ افغانستان کی حکومت نے مولوی نعمت اللہ خان صاحب احمدی کو محض ان کے احمدی عقائد اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان رکھنے کی وجہ سے سنگسار کروا دیا تھا لیکن ہندوستان کے بعض اخبارات جو احمدیت سے عناد رکھتے تھے اپنی دشمنی کے اظہار میں حد سے باہر نکل گئے اور انہوں نے باوجود ہر قسم کے ثبوت موجود ہونے کے مندرجہ بالا حقیقت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور دیانتدارانہ صحافت کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر امیر امان اللہ خان کے ظلم و ستم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور قتل کی اس سزا کی ایسی وجوہات تلاش کرنے لگے جن کا وجود ان کے اپنے ذہنوں کی پیداوار تھا۔اس سلسلہ میں بعض حوالہ جات قابل ملاحظہ ہیں : اخبار زمیندار لا ہورا اپنے ۱۰ ستمبر ۱۹۲۴ ء کے پرچہ میں لکھتا ہے : وو یہ دعویٰ ہرگز قابل اعتبار نہیں کہ نعمت اللہ خان محض احمدی ہونے کی وجہ سے سنگسار کیا گیا۔جہاں تک ہمارا قیاس کام دیتا ہے۔اس کی سنگساری کی وجوہ سیاسی ہوں گی اور وہ کسی ایسی سازش یا کسی ایسے منصوبے میں مصروف پایا گیا ہو گا جس سے حکومت افغانستان کو بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی نقصان پہنچنے کا احتمال ہو“ اسی طرح اخبار سیاست لاہور اپنے ۸ ستمبر ۱۹۲۴ء کے شمارہ میں لکھتا ہے : کیسے خیال میں آ سکتا ہے کہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کو محض میاں محمود صاحب کے مرید ہونے کی وجہ سے قتل کرا دیا گیا ہو۔ضرور ہے کہ مولوی نعمت اللہ صاحب نے کوئی