شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 277 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 277

277 ان کی نعش نکالنی چاہی تو اشقیا نے انہیں اس کی بھی اجازت نہ دی۔نعمت اللہ خان پر جو مصائب اور شدائد گزرنی تھیں گزر چکی وہ اب اپنے مالک حقیقی کے حضور میں اور احکم الحاکمین کے قدموں میں ہے۔جہاں شریروں کی شرارت کا کوئی اثر نہیں پہنچ سکتا وہ اب پورے آرام میں ہے۔مگر منتقم حقیقی کی بارگاہ میں یہ خون رائیگاں نہیں خاکسار- سید ممتاز علی (۵۷) جائے گا۔شیعہ معاصر ذوالفقار اپنے ۱۸ اکتو بر ۱۹۲۳ء کے پرچہ میں لکھتا ہے کہ ” معاصر فرشتہ اس بات پر سیخ پا ہو رہا ہے کہ ہم امیر افغانستان کو متعصب کہتے ہیں۔ہمیں اس بات سے انکار نہیں ہوسکتا کیونکہ اس نے مولوی نعمت اللہ ایک احمدی مسلمان کو صرف احمدی ہونے کی وجہ سے قتل کرنے کا بے رحمی کے ساتھ حکم دیا اور وہ سنگسار کر دیا گیا۔اس لئے کہ وہ احمدی مذہب کی کابل میں تبلیغ کرتا تھا۔معاصر فرشتہ کا یہ لکھنا کہ وہ احمدی ہونے کی وجہ سے سنگسار نہیں ہوا۔یہ معاصر کی بے علمی کی دلیل ہے۔مولوی نعمت اللہ خان کا مقدمہ اور تینوں عدالتوں کے فیصلہ جات افغانی اور یورپ اور انڈیا کے تمام اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں کہ مولوی نعمت اللہ خان صرف احمدی ہونے کی وجہ سے سنگسار ہوا ہے اور معاصر خدا جانے کس سوراخ میں بیٹھا ہوا یہ راگ رٹ رہا ہے کہ خوست والوں کا جاسوس تھا اس لئے سنگسار ہوا ہے۔ہمیں احمدی صاحبان سے مذہباً کوئی اتفاق رائے نہیں ہے مگر انسانی ہمدردی یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم امیر افغانستان کے اس ظالمانہ اور بے رحمانہ فعل پر اظہار رنج اور نفرین کریں اور اس کو متعصب اور مذہبی دیوانہ اور نا قابلِ حکومت اور سلطنت کہیں۔کسی والی ملک کا یہ فرض منصبی نہیں ہے کہ وہ اپنے مذہب سے اختلاف رائے رکھنے والے کمزور کسی فرقہ یا شخص کو موت کے گھاٹ اتارتا جائے اور زبر دست قوم کے دباؤ سے دبتا رہے۔ہم بحیثیت ایک اخبار نویس ہونے کے امیر افغانستان کے اس فعل کے خلاف یہی الفاظ استعمال کرتے اگر مولوی نعمت اللہ خان کی جگہ پر کوئی ہندو یا سکھ یا یہود و نصاری بھی ہوتا