شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 259
259 بھی ہے۔جس کی طرف اب میرا خیال نہیں گیا بلکہ جب وہ شائع کی گئی تھی اسی وقت میرا یہی خیال تھا جواب ہے۔وہ پیشگوئی یہ ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تذکرۃ الشہا دتین صفحہ ۵۵ میں سید عبداللطیف صاحب شہید کے واقعہ شہادت ذکر کر کے فرماتے ہیں۔و میں نے ایک کشفی نظر میں دیکھا کہ ایک درخت سرو کی ایک بڑی لمبی شاخ جو نہائیت خوبصورت اور سرسبز تھی ہمارے باغ میں سے کاٹی گئی اور وہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہے تو کسی نے کہا کہ اس شاخ کو کو اس زمین میں جو میرے مکان کے قریب ہے اُس بیری کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کائی گئی تھی اور پھر دوبارہ اُگے گی اور ساتھ ہی مجھے یہ وحی ہوئی کہ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب کی شہادت کے بعد ہوا۔اور اس میں ایک خبر دی گئی ہے۔” جب یہ الہام لکھا گیا۔اس وقت بھی اور بعد میں بھی جتنی دفعہ میں نے اسے پڑھا یہی سمجھا کہ یہ اور واقعہ کے متعلق ہے۔صاحبزادہ صاحب مرحوم کے متعلق نہیں۔کیونکہ وہ تو شہید ہو چکے تھے اور جب شہید ہوئے ہماری طرف ہی تھے۔اس وجہ سے میرا خیال تھا کہ کوئی اور واقعہ ہوگا۔وو چنانچہ اب جبکہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کا واقعہ ہوا تو خدا تعالیٰ نے سامان بھی ایسے پیدا کئے کہ وہ بہشتی مقبرہ جس کے بنانے کی یہ غرض ہے کہ جماعت کے صلحاء اس جگہ جمع ہوں۔اس میں شہید کا کتبہ لگا دیا گیا۔اور اس طرح ثابت ہو گیا کہ موجودہ زمانہ میں صلحاء جہاں جمع ہیں۔وہاں اسے لایا گیا۔۔۔حضرت مسیح موعود کو جو رویا دکھائی گئی وہ بھی عجیب ہے۔اس میں آپ کو سرو کی شاخ دکھائی گئی اور کہا گیا کہ اسے اس بیری کے پاس لگا دو۔جو اس سے پہلے کائی گئی تھی۔اس سے بھی ظاہر ہے کہ سرو کی شاخ اور تھی اور اس سے پہلے ایک بیری کاٹی گئی تھی۔سرو کی شاخ