شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 260 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 260

260 اور بیری کا درخت بھی اپنے اندر عجیب حکمت رکھتے ہیں۔بیری جو پہلے کاٹی گئی تھی اس سے مراد سید عبداللطیف صاحب تھے۔انہیں بیری قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا کہ وہ پھل دار یعنی صاحب اولاد تھے۔اور سرو کی شاخ سے یہ مراد تھی کہ بیری کے بعد جو شاخ کاٹی جائے گی وہ پھل دار نہیں ہوگی۔چنانچہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی ابھی شادی تک بھی نہ ہوئی تھی کہ شہید کر دیئے گئے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سرو کی شاخ جو کائی گئی اس سے مراد یہی تھے۔پھر الہام کے یہ الفاظ کہ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا یہ بھی عجیب ہیں۔بائیل میں آتا ہے کہ جب حضرت لوط کی قوم کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ تباہ ہونے والی ہے۔تو انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور عرض کی۔کیا تو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کرے گا۔شاید پچاس صادق اس شہر میں ہوں۔کیا تو اسے ہلاک کرے گا۔اور ان پچاس صادقوں کی خاطر جو اس کے درمیان ہیں اس مقام کو نہ چھوڑے گا۔ایسا کرنا تجھ سے بعید ہے کہ نیک کو بد کے ساتھ مار ڈالے اور نیک بد کے برابر ہو جائیں۔یہ تجھ سے بعید ہے کہ تمام دنیا کا انصاف کرنے والا انصاف نہ کرے گا۔اور خداوند نے کہا کہ اگر میں شدوم میں شہر کے درمیان پچاس صادق پاؤں تو میں ان کے واسطے تمام مکان کو چھوڑ دوں گا۔تب ابرہام نے جواب دیا اور کہا کہ اب دیکھ میں نے خداوند سے بولنے میں جرات کی اگر چہ میں خاک اور راکھ ہوں۔شاید پچاس صادقوں سے پانچ کم ہوں کیا ان پانچ کے واسطے تو تمام شہر کو نیست کرے گا اور اس نے کہا اگر میں وہاں پینتالیس پاؤں تو نیست نہ کروں گا۔۔۔تب اس نے کہا میں منت کرتا ہوں کہ خداوند خفا نہ ہوں۔تب میں فقط اب کی بار پھر کہوں۔شاید وہاں دس پائے جائیں۔وہ بولا میں دس کے واسطے بھی اُسے نیست نہ کروں گا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک بندوں کے اپنی قوم سے تعلقات قائم رہتے ہیں اور ان کی وجہ سے قوم عذاب الہی سے بچ سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود کے الہام میں جو کاٹا گیا