شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 258
258 ہیں۔شہید مرحوم مولوی عبداللطیف صاحب نے اپنی شہادت سے بہت پہلے فرمایا تھا کہ کابل کی زمین میرا خون چاہتی ہے اور اسی سے ہمیں ترقی نصیب ہوگی۔بغیر خون کے کابل کی زمین میں اصلاح نہیں ہو سکتی۔جب ہم خوشی خوشی جانیں دیں تب وہاں ترقی ہوگی۔۔۔۔سو حضور ہمارے لئے ایسی تجاویز فرمائیں کہ جن سے ہماری دلی آرزو پوری ہو اور احمدیت کا بول بالا ہو۔ہم ہیں حضور کے غلام احمدی افغانان قادیان دارالامان اس ایڈریس کے پڑھے جانے کے بعد سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے جو تقریر فرمائی۔اس کے بعض اقتباسات یہاں درج کئے جاتے ہیں : فرمایا: مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت اس قسم کے واقعات میں سے ایک واقعہ ہے۔جس نے اس وقت دنیا میں شور اور تہلکہ مچا دیا ہے۔حتی کہ وہ لوگ جو ہمارے مذہب کے مخالف ہیں وہ بھی ایسے رنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اسطرح کوئی احمدی بھی نہیں کر سکا۔لندن میں جب اس ظلم کے خلاف اظہار نفرت کا جلسہ ہوا تو اس جلسہ میں یکے بعد دیگرے تین معزز اور بااثر پادریوں نے تقریریں کیں۔ان میں سے ایک نے کہا ۱۹ سوسال ہوئے جب حضرت مسیح آئے تھے اس وقت ان کے حواریوں نے جو قربانیاں کیں۔ان کی مثال اگر کہیں نظر آتی ہے تو اس زمانہ کے احمدیوں میں۔اسی طرح سب نے نہایت زور دار تقریریں کیں اور انہوں نے کہا کہ یہ شہادت صرف احمدیت کے لئے نہیں بلکہ اس اصل کی خاطر ہے کہ انسان سچائی کو کسی دوسرے کے کہنے اور جبر کرنے پر نہیں چھوڑ سکتا۔یہ تو اس واقعہ کا موجودہ اثر ہے۔آئندہ کے لئے میرے نزدیک یہ واقعہ اور بھی زیادہ اثر اور اہمیت پیدا کرنے والا ہے۔اور اس کے متعلق حضرت مسیح موعود کی ایک پیشگوئی