شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 257
257 ۲۶ نومبر ۱۹۲۳ء کو قادیان میں مقیم افغان احمدیوں نے ایک سپاس نامہ حضور کی خدمت میں پیش کیا جو خان گل محمد صاحب نے اردو زبان میں پڑھ کر سنایا۔بعد میں مولوی عبدالستارخان صاحب افغان نے یہ سپاس نامہ حضور اقدس کی خدمت میں پیش کیا۔اس سپاس نامہ میں افغان احباب نے اپنے اخلاص کا اظہار کیا تھا اور مولوی نعمت اللہ خان اور حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب کی شہادت کا ذکر کر کے منجملہ اور امور کے یہ بھی بیان کیا تھا کہ سید نا ! ہماری جانیں آپ پر قربان ، ہم سلسلہ حقہ کی خاطر ہر مصیبت جھیلنے پر آمادہ وو۔ہیں اپنے شہداء کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں اور اپنی جانوں کو حضور کے سپر د کر تے ہیں۔افغانوں میں وہ شخص نہایت ہی ذلیل خیال کیا جاتا ہے۔جو اپنا بدلہ نہیں لے سکتا۔حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کی سنگساری کے بعد واقعی ہم اپنے آپ کو ذلیل خیال کرتے ہیں۔ہمیں کا بل سے بہت بدلے لینے ہیں۔ہمارے بھائیوں کو سنگسار کر دیا گیا۔ان کو قید خانوں میں ڈال کر تکلیفوں کے ساتھ مار ڈالا گیا مالی نقصانات پہنچائے گئے۔ہمارے دل میں یہ جذبہ موجزن ہے کہ ہم بھی اپنا بدلہ لے کر سرخرو ہوں۔۔۔مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہم کو ہدایت دی۔اب ہم اپنے جذبات پر قابور رکھتے ہیں جوش تو موجود ہے۔مگر رخ دوسرا ہے۔یعنی بجائے اس کے کہ ہم کسی کا خون کریں۔ہمارے اندر سے یہ آواز نکلتی ہے کہ ہم انتقام لینے والے جوشوں کے ساتھ اس کام کو جاری رکھیں۔جس کے دبانے کے لئے کابل کوشش کر رہا ہے۔اور اس راستہ پر چلیں جس پر ہمارے شہداء چلے۔سے لڑے گی۔کابل میں ایک میدان ہے۔جس کی بابت مشہور ہے کہ یہاں مہدی کی فوج کفار سو وہ میدان ہمارا انتظار کر رہا ہے۔اور ہم حضور کی فوج ، اسی میدان میں کفار کے ساتھ لڑنے کے لئے بالکل آمادہ ہیں۔جس طرح حکم ہو۔اس پر عمل کرنا اپنا ایمان خیال کرتے