شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 210 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 210

210 جائیں گی۔اس پر حضور رضی اللہ عنہ نے نو جوان افغان طالب علم نعمت اللہ خان کو کا بل جانے کی ہدایت فرمائی تا کہ وہ افغانستان اور افغانستان کے احمدیوں کے حالات معلوم کریں اور حضور کو اس سے اطلاع کریں۔جیسا کہ حضور نے بعد میں ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ نعمت اللہ ایک طالب علم تھا اور اسے دراصل وہاں جماعت کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا مگر بعد میں اس کو مبلغ مقرر کر دیا گیا (۹) نیز فرمایا کہ ”مولوی نعمت اللہ خان کا بل کے پاس ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہ سلسلہ کی تعلیم بھی حاصل کریں اور وہ قادیان چلے آئے جہاں وہ احمد یہ دینی کالج میں داخل ہوئے وہ ابھی کالج ہی میں تعلیم پار ہے تھے کہ کابل کے احمدیوں کی تعلیم کے لیے ان کو وہاں بھیجنا پڑا چنا نچہ 1919 ء میں وہ وہاں چلے گئے اور چونکہ افغانستان میں احمدیوں کی لیے امن نہ تھا مخفی طور پر اپنے بھائیوں کو سلسلہ کی تعلیم سے واقف کرتے رہے‘ (۱۰) افغانستان کی حکومت کی طرف سے ملک میں مذہبی آزادی کا واضح اعلان سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس عرصہ میں گورنمنٹ افغانستان نے کامل مذہبی آزادی کا اعلان کیا اور ہم نے سمجھا کہ اب احمد یوں کو اس علاقہ میں امن ہو گا۔مگر پیشتر اس کے کہ وہاں کی جماعت کے لوگ اپنے آپ کو علی الاعلان ظاہر کرتے مناسب سمجھا گیا کہ گورنمنٹ سے اچھی طرح دریافت کر لیا جائے۔۔۔۔۔چنانچہ جب محمود طرزی صاحب سابق سفیر پیرس کی امارت میں افغان گورنمنٹ کا ایک مشن برٹش گورنمنٹ سے معاہدہ صلح کرنے کے لیے آیا تو اس وقت میں نے ان کی طرف ایک وفد اپنی جماعت کے لوگوں کا بھیجا تا کہ وہ ان سے دریافت کرے کہ کیا مذ ہبی آزادی دوسرے لوگوں کے لیے ہے یا احمدیوں کے لئے بھی۔اگر احمدیوں کے لیے بھی ہے تو وہ لوگ جو اپنے گھر چھوڑ کر قادیان میں آگئے ہیں واپس اپنے گھروں کو چلے میاں نیک محمد خان صاحب نے بتایا کہ اس وفد میں ان کے علاوہ مولانا۔۔بلال پوری بھی تھے اور بات چیت ڈیرہ دون میں ہو سکتی تھی۔