شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 209 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 209

209 ممالک میں نیشنل ازم اور آزادی کی لہر کا گہرا اثر لے کر افغانستان واپس آیا۔اس نے امیر امان اللہ خان کو مشورہ دیا کہ افغانستان کا نظام دیگر متمدن اور مہذب ممالک کے اصولوں کے مطابق بنایا جائے۔امیر امان اللہ خان ان خیالات سے متاثر ہوا اور اس کے مطابق ملکی نظام کے ڈھانچے میں تبدیلی لانا چاہتا تھا اس نے اس بات کا اعلان عام کیا کہ میری مملکت میں ہر مذہب اور فرقہ کے پیر و کمل آزادی سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سردار محمود خان طرزی اپنے دو دامادوں یعنی امیر امان اللہ خان اور سردار عنایت اللہ خان میں سے امان اللہ خان کو زیادہ عزیز جانتا تھا کیونکہ وہ امان اللہ خان کو ایک عالی خیال اور حریت پسند جوان یقین کرتا تھا جبکہ سردار عنایت اللہ خان ایک رجعت پسند اور پرانے خیالات والا شخص تھا اس لیے امیر حبیب اللہ خان کی زندگی میں ہی امان اللہ خان کے گہرے تعلقات سردار محمود خان طرزی سے قائم ہو گئے تھے اور جب کبھی امان اللہ خان کو کابل کا گورنر مقرر کیا جاتا تو وہ آزادی پسند نو جوانوں کو سیاسی سرگرمیاں کرنے کی ترغیب دیا کرتا تھا اور ان کی مالی مدد بھی کیا کرتا تھا۔جب امیر امان اللہ خان بادشاہ بن گیا تو یہ آزادی پسند افرادا میر کی حمایت کے لیے آموجود ہوئے اور امیر امان اللہ خان نے بھی ان لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر سرفراز کر دیا۔(۸) مولوی نعمت اللہ خان صاحب کو 1919ء میں قادیان سے افغانستان بھجوایا گیا جیسا کہ ذکر آچکا ہے کہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ میں قادیان میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔1919ء میں جب یہ خبر آئی کہ امیر حبیب اللہ خان کو قتل کر دیا گیا ہے اور نیا امیر امان اللہ خان مقرر ہوا ہے اور اخباروں میں اس امر کا ذکر بھی آیا کہ افغانستان کا نیا امیر آزادی پسند نوجوان ہے اور اس کو سردار محمود خان طرزی اور آزاد نوجوان پارٹی کی حمایت حاصل ہے جو افغانستان کو مہذب اور آزاد ممالک کے رنگ پر چلانا چاہتی ہے تو طبعاً حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو افغانستان میں بسنے والے احمدیوں کا خیال آیا کہ اللہ چاہے تو افغانستان کے احمدیوں کو بھی آزادی ملے گی اور ان کے لیے کچھ سہولتیں پیدا ہو