شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 211 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 211

211 جاویں۔محمود طرزی صاحب نے میرے بھیجے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ افغانستان میں احمدیوں کو اب کوئی تکلیف نہ ہوگی کیونکہ ظلم کا زمانہ چلا گیا ہے اور اب اس ملک میں کامل مذہبی آزادی ہے۔اسی طرح دوسرے ممبران وفد نے بھی یقین دلایا۔ان لوگوں میں سے جو اپنے ملک کو چھوڑ کر قادیان آگئے ہیں ایک نوجوان نیک محمد بھی ہے جو احمدیت کے اظہار کی آزادی نہ پا کر چودہ سال کی عمر میں اپنا وطن چھوڑ کر چلا آیا تھا۔اس نوجوان کا والد غزنی کے علاقہ کا رئیس تھا۔اس کو دیکھ کر کئی ممبران وفد کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ ایسے معزز خاندانوں کے بچے اس عمر میں اپنے عزیزوں سے جدا ہو کر دوسرے وطنوں کو جانے پر مجبور ہوں یہ بہت بڑا ظلم ہے جو ہر میجسٹی امان اللہ خان کے وقت میں نہ ہوگا۔اور ایشیائی طریق پر اپنے سینوں پر ہاتھ مار کر کہنے لگے کہ تم واپس وطن کو چلو دیکھیں تو تم کو کون ترچھی نظر سے دیکھتا ہے؟ اس ملاقات کے نتیجہ میں ہمارا وفد اپنے نز دیک نہایت کامیاب واپس آیا۔مگر مزید احتیاط کے طور پر میں نے چاہا کہ امیر افغانستان کو اپنے عقائد سے بھی مطلع کر دیا جائے اور ہماری امن پسند عادت سے بھی آگاہ کر دیا جائے۔تا کہ پھر کوئی بات نہ پیدا ہو اور میں نے مولوی نعمت اللہ خان کو ہدایت کی کہ وہ محمود طرزی صاحب سے ان کی واپسی پر ملیں اور ان سے بعض احمد یوں پر جو ظلم ہوا ہے اس کا تذکرہ کریں اور امیر کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کی بھی اجازت لیں۔محمود طرزی صاحب نے ان احمدیوں کی تکلیف کا ازالہ کر دیا اور اس امر کی ضمانت دی کہ جو خط امیر کے نام آئے وہ اس کو غور سے پڑھیں گے۔اس موقعہ پر ہمارے مبلغ نے اپنے آپ کو جس طرح گورنمنٹ کے سامنے ظاہر کر دیا تھا۔پبلک پر بھی ظاہر کر دیا۔چونکہ افغانستان کے بعض علاقوں سے یہ خبریں برا بر آ رہی تھیں کہ احمدیوں پر برا بر ظلم ہو رہا ہے۔ان کو بلا وجہ قید کر لیا جاتا ہے۔پھر ان سے روپیہ لے کر چھوڑا جاتا ہے۔اس لئے میں نے اپنے صیغہ دعوت و تبلیغ کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ اس کے متعلق افغان گورنمنٹ سے خط و کتابت کریں۔چنانچہ انہوں نے ایک چٹھی وزیر خار جیہ افغانستان کو لکھی۔