شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 208 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 208

208 اور داماد تھا۔اگست 1919ء میں جنگ بندی کے دستخط ہوئے جس کی رو سے انگریزوں نے افغانستان کی خارجہ خود مختاری تسلیم کر لی اور افغانستان بطور ایک آزاد مملکت کے منصہ ظہور پر آ گیا۔جہاں تک نئی سرحدات کے تعین کا معاملہ تھا افغانستان اسمیں ناکام رہا اور انگریزی نمائندوں کے اصرار پر ڈیورنڈ لائن ہی ہندوستان کی سرحد تسلیم کی گئی اس میں افغانستان کے حق میں کوئی تبدیلی نہ کی جاسکی۔چونکہ اب افغانستان ایک آزاد ملک بن چکا تھا اس لیے وہ امدادی رقم جو انگریزوں کی طرف سے افغانستان کے امیروں کو ادا کی جاتی تھی اس کی ادائیگی بند کر دی گئی۔امیر امان اللہ خان کی خواہش تھی کہ انگریزوں سے کچھ وہ علاقے حاصل کیے جائیں جو ڈیورنڈ لائن کے تحت انگریزوں کے زیر اثر آگئے تھے۔سردار احمد علی جان کو اس میں ناکامی ہوئی چونکہ مذاکرات کے دوران اس نے ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم کر لیا تھا اس لیے جب وہ راولپنڈی سے واپس آیا تو شاہی معتوب قرار پایا اور اسے کابل میں نظر بند کر دیا گیا۔لیکن چونکہ وہ علیا حضرت والدہ صاحبہ امیر امان اللہ خان کا داماد تھا اس لیے کچھ عرصہ کے بعد نظر بندی سے آزاد کر دیا گیا۔افغانستان کی نوجوان پارٹی جو آزادی کی دلدادہ تھی اور جن کا رہنما سردار محمود خان طرزی سمجھا جاتا تھا اس کے نقطہ نگاہ سے بھی سردار احمد علی جان راولپنڈی کا نفرنس میں بالکل ناکام رہا تھا۔امیر امان اللہ خان بھی سردار محمود خان طرزی کے زیر اثر تھا۔اس کا آگے ذکر نسبتاً تفصیل سے آئے گا۔(۷) افغانستان میں نیشنل ازم اور آزادی خیال کے رحجانات کا فروغ سردار محمد خان طرزی پسر سردار غلام محمد طرزی امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ میں سراج الاخبار کابل کا مدیر تھا۔وہ امیر امان اللہ خان کا خسر اور ملکہ ثریا کا والد تھا۔امیر عبدالرحمن خان نے اسکو افغانستان سے ملک بدر کر دیا تھا وہ ملک شام میں رہنے لگا اور عرب