شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 20 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 20

20 گیا اور دم نہ مارا اور یہ نہ کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں بیعت کو توڑتا ہوں۔اور یہی سچے مذہب اور بچے امام کی نشانی ہے کہ جب کسی کو اُس کی پوری معرفت حاصل ہو جاتی ہے اور ایمانی شیرینی دل و جان میں رچ جاتی ہے تو ایسے لوگ اس راہ میں مرنے سے نہیں ڈرتے۔“ (۱۱) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : وو ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک وہ بزدلی کو نہ چھوڑے گی اور استقلال اور ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک راہ میں ہر مصیبت و مشکل کو اٹھانے کے لئے تیار نہ رہے گی وہ صالحین میں داخل نہیں ہو سکتی۔صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت کا واقعہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔تذکرۃ الشہادتین کو بار بار پڑھو اور دیکھو کہ اس نے اپنے ایمان کا کیسا نمونہ دکھایا۔اس نے دنیا اور اس کے تعلقات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی۔بیوی بچوں کا غم اس کے ایمان پر کوئی اثر نہ ڈال سکا۔دنیوی عزت اور تم نے اس کو بزدل نہیں بنایا۔اس نے جان اور دینی گوارا کی مگر ایمان کو ضائع نہیں کیا۔۔۔براہین احمدیہ میں ۲۳ برس پہلے سے اس شہادت کے متعلق پیشگوئی تھی۔وہاں صاف لکھا ہے۔شَاتَان تُذبَحانِ ، وَ كُلَّ مَن عَليها فان کیا اس وقت کوئی منصوبہ ہو سکتا تھا کہ ۲۳ یا ۲۴ سال بعد عبد الرحمن اور عبداللطیف افغانستان سے آئیں گے اور پھر وہاں جا کر شہید ہوں گے۔۔۔پہلے عبدالرحمن جو مولوی عبد اللطیف کا شاگر د تھا۔سابق امیر نے قتل کروایا۔محض اس وجہ سے کہ وہ اس سلسلہ میں داخل ہے اور یہ سلسلہ جہاد کے خلاف ہے اور عبدالرحمن جہاد کے خلاف تعلیم افغانستان میں پھیلا تا تھا اور اب اس امیر نے مولوی عبد اللطیف کو شہید کرا دیا۔(۱۲) رسالہ شہید اول افغانستان اس رسالہ کے پہلے باب میں مولوی عبد الرحمن صاحب مرحوم کے بارہ میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات اور ملفوظات درج کئے گئے ہیں۔اب اس دوسرے باب میں دیگر اصحاب کی تحریرات اور روایات پر مبنی واقعات