شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 19
19 شیخ عبدالرحمن ، امیر عبدالرحمن کے سامنے اس سلسلہ کے لئے گلا گھونٹ کر مارا گیا۔اور اس نے ایک بکری کی طرح اپنے تئیں ذبح کرالیا۔کیا وہ ابدال میں داخل نہ تھا؟ ایسا ہی مولوی صاحبزادہ عبد اللطیف جو محدث اور فقیہ اور سر آمد علماء کا بل تھے اس سلسلہ کے لئے سنگسار کئے گئے اور بار بار سمجھایا گیا کہ اس شخص کی بیعت چھوڑ دو۔پہلے سے زیادہ عزت ہو گی۔لیکن انہوں نے مرنا قبول کیا اور بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی بھی کچھ پرواہ نہ کی۔اور چالیس دن تک پتھروں میں ان کی لاش پڑی رہی۔کیا وہ ابدال میں سے نہ تھے؟‘ (9) براہین احمدیہ کی یہ پیشگوئی ہے۔شَاتَانِ تُذبَحَانِ ، وَكُلُّ مَن عَلِيهَا فَأَن یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر مرے گا۔یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں درج ہے۔جو آج سے پچیس برس پہلے شائع ہو چکی ہے۔مجھے مدت تک اس کے معنی معلوم نہ ہوئے بلکہ اور اور جگہ کو محض اجتہاد سے اس کا مصداق ٹھہرایا۔لیکن جب مولوی صاحبزادہ عبداللطیف مرحوم اور شیخ عبد الرحمن ان کے تلمیذ سعید امیر کابل کے ناحق ظلم سے قتل کئے گئے۔تب روز روشن کی طرح کھل گیا کہ اس پیشگوئی کے مصداق یہی دونوں بزرگ ہیں۔کیونکہ شاۃ کا لفظ نبیوں کی کتابوں میں صرف صالح انسان پر بولا گیا ہے اور ہماری تمام جماعت میں ابھی تک بجز ان دونوں بزرگوں کے کوئی شہید نہیں ہوا۔‘ (۱۰) ”صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کی شہادت بھی میری سچائی پر ایک نشان ہے کیونکہ جب سے خدا نے دنیا کی بنیاد ڈالی ہے کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ کوئی شخص دیدہ دانستہ ایک جھوٹے مکار مفتری کے لئے اپنی جان دے اور اپنی بیوی کو بیوہ ہونے کی مصیبت میں ڈالے اور اپنے بچوں کا یتیم ہونا پسند کرے اور اپنے لئے سنگساری کی موت قبول کرے۔یوں تو صد ہا آدمی ظلم کے طور پر قتل کئے جاتے ہیں۔مگر میں جو اس جگہ صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب کی شہادت کو ایک عظیم الشان نشان قرار دیتا ہوں۔وہ اس وجہ سے نہیں کہ ظلم سے قتل کئے گئے اور شہید کئے گئے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ شہید ہونے کے وقت انہوں نے وہ استقامت دکھائی کہ اس سے بڑھ کر کوئی کرامت نہیں ہوسکتی۔اسی طرح شیخ عبدالرحمن بھی کا بل میں ذبح کیا