شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 21
21 224 درج کئے جائیں گے۔سید احمد نور کا بلی بیان کرتے ہیں کہ شہید عبدالرحمن خوبصورت نوجوان تھے ، میانہ قد ، جسم کچھ پہلا تعلیم یافتہ تھے۔آپ کو مولوی کہ کر پکارا جا تا تھا۔(۱۳) عبد الرحمن سرکاری ملازم تھے اُن کو ایک سو میں روپیہ سالا نہ سرکار کی طرف سے ملتے تھے۔قوم منگل کے معزز خاندان سے تھے۔(۱۴) سید محمود احمد احمدی افغانی جو شگہ صوبہ پکتیا کے رہنے والے ہیں۔بیان کرتے ہیں کہ مولوی عبد الرحمن صاحب کا آبائی وطن قریہ گند رخیل، غتمہ و نہ سید کرم تھا۔یہ بستی شہر گردیز کے متصل ہے۔جو آج کل صوبہ پکتیا کا ہیڈ کوارٹر ہے۔مولوی عبدالرحمن صاحب کا قبیلہ احمد زئی تھا - (۱۵) ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ ۱۸۹۳ء میں امیر عبدالرحمن خان اور انگریزوں کے درمیان افغانستان اور برٹش انڈیا کی سرحدات کا معاہدہ کا بل میں طے پا گیا تھا۔جس میں دونوں فریق ان علاقوں کی تقسیم پر راضی ہو گئے تھے۔جو معاہدہ کے مطابق ان کے حصہ میں آئے تھے۔اس معاہدہ کے لئے سرمار ٹیمر ڈیورنڈ نے کابل کا سفر کیا اور امیر عبدالرحمن خان سے مل کر معاہدہ کی تمام تفصیلات طے کرلیں۔اس سے اگلے سال ۱۸۹۴ء میں اس معاہدہ کے مطابق دونوں حکومتوں کے نمائندوں نے سرحد کی نشان دہی کی۔اس غرض کے لئے ایک کمیشن کا قیام کیا گیا۔جس کی نمائندگی انگریزوں کی طرف سے۔سر مار ٹیمر ڈیورنڈ ، صاحبزادہ سر عبدالقیوم خان آف ٹوپی صوبہ سرحد، مسٹر جے ایس ڈونلڈ سی آئی ای آفیسر اون پیشل ڈیوٹی کرم - کمشنر صاحب پشاور ڈویژن اور بعض دیگر افسران نے کی۔افغانستان کی طرف سے جب بنوں ، کو ہاٹ ،ٹل، پاڑہ چنار، کرم اور پیواڑ کوتل کے