شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 18
18 دونوں کا ذبح کیا جانا آخر تمہارے لئے بہتری کا پھل لائے گا۔۔۔۔۔اور ان واقعات شہادت کے مصالح جو خدا کو معلوم ہیں جو تمہیں معلوم نہیں یعنی خدا جانتا ہے کہ ان موتوں سے اس ملک کا بل میں کیا کیا بہتری پیدا ہوگی۔(۶) وو پیشگوئی میں جو دو بکریوں کے ذبح کئے جانے کا ذکر ہے۔یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔جو سر زمین کابل میں ظہور میں آیا۔یعنی ہماری جماعت میں سے ایک شخص عبدالرحمن نام جو جوان صالح تھا اور دوسرے مولوی عبد اللطیف صاحب جو نہایت بزرگوار آدمی تھے۔امیر کابل کے حکم سے سنگسار کئے گئے۔محض اس الزام سے کہ کیوں وہ دونوں ہماری جماعت میں داخل ہو گئے۔(۷) ’واقعہ شہادت اخویم مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم اور شیخ عبدالرحمن صاحب مرحوم ایک ایسا دور از قیاس واقعہ تھا کہ جب تک وقوع میں نہ آ گیا۔ہمارے ذہن کا اس طرف التفات نہ ہوا کہ دراصل وحی الہی کے یہ معنی ہیں کہ دو ہمارے صادق مرید سچ مچ ذبح کئے جائیں بلکہ اس حالت کو مُستعد سمجھ کر محض اجتہاد کے طور پر تاویل کی طرف میلان ہوتا رہا۔اور تاویلی مصداق خیال میں گذرتے رہے کیونکہ انسان کا اپنا علم اور اپنا اجتہاد غلطی سے خالی نہیں لیکن جب یہ دونوں واقعات بعینہ ظہور میں آگئے اور دو بزرگ اس جماعت کے بڑی بے رحمی سے کا بل میں شہید کئے گئے۔تو حق الیقین کی طرح وحی الہی کے معنی معلوم ہو گئے اور جب اس وحی کی تمام عبارت کو نظر اٹھا کر دیکھا تو آنکھ کھل گئی اور عجیب ذوق پیدا ہوا اور معلوم ہوا کہ جہاں تک تصریح ممکن ہے۔خدا نے تصریح سے اس پیشگوئی کو بیان کر دیا ہے اور ایسے الفاظ اختیار کئے ہیں اور ایسے فقرات بیان فرمائے ہیں کہ وہ دوسرے پر صادق آ ہی نہیں سکتے -سبحان اللہ! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیسے اس نے ان پوشیدہ باتوں کو ایک زمانہ دراز پہلے براہین احمدیہ میں بتفریح بیان کر دیا۔(۸) ” میری جماعت میں اکثر لوگ ایسے ہیں۔جنہوں نے اس سلسلہ کے لئے بہت دکھ اٹھائے ہیں۔۔۔اور جان دینے تک فرق نہیں کیا۔کیا وہ ابدال نہیں ہیں؟