شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 179
179 فتح کر لیا اور افغان فوجیں ٹل پر قابض ہو گئیں یہ رمضان المبارک کے ایام تھے اس جنگ میں انگریزوں نے فوری کارروائی کی اور پیچھے سے فوجیں لا کر افغان حملہ کا مقابلہ کیا اور ان کو روک دیا بعض پرانے ہوائی جہاز بھی انگریزوں نے استعمال کئے چنانچہ مل اور کابل وغیرہ پر بمباری کی گئی اس سے افغانوں میں دہشت پھیل گئی اور ان کا خاصہ جانی نقصان ہوا اس پر امیر امان اللہ خان لڑائی بند کرنے پر تیار ہو گیا اور اس بارہ میں اس نے وائسرائے ہند کو لکھا کہ وہ سیز فائر یعنی جنگ بندی کے لئے تیار ہے پہلے تو انگریزوں نے پرواہ نہیں کی بالآخر وہ بھی جنگ بندی کے لئے تیار ہو گئے اور دونوں طرف کے نمائندے راولپنڈی میں جنگ بندی کا فیصلہ کرنے کے لئے جمع ہوئے۔افغانستان کی طرف سے سردار علی جان خان جنگ بندی اور صلح کے لئے راولپنڈی گیا۔اور دونوں فریقوں کا جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔افغانستان کو اس جنگ کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔امیر امان اللہ خان کا خیال تھا کہ اس کے نتیجہ میں وہ ڈیورنڈ لائن سے جانب شرق بعض علاقے جو صوبہ سرحد یا بلوچستان میں شامل تھے افغانستان میں شامل کروانے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن انگریز اپنے موقف پر سختی سے قائم رہے اور انہوں نے برطانوی ہند کا کوئی علاقہ افغانستان کو دینے سے انکار کر دیا۔اس وقت امیر عبدالرحمن خان اور امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ سے افغانستان کو خارجی خود مختاری حاصل نہ تھی اور دفاع اور امور خارجہ میں افغانستان انگریزوں کے ماتحت تھا اور اس کے عوض افغانستان کے اُمراء کو لاکھوں روپیہ وظیفہ ملتا تھا۔انگریزوں نے صلح اور جنگ بندی کی گفت و شنید میں افغانستان کی خارجی خود مختاری تسلیم کر لی اور اس کے نتیجہ میں افغانستان ایک آزاد مملکت کی صورت میں منصہ ظہور پر آیا۔انگریزوں نے وظیفہ کی وہ رقم جو اُمراء افغانستان کو دیا کرتے تھے اس کی ادائیگی بند کر دی۔سردار علی جان خان نمائندہ افغانستان کو یہ امور تسلیم کرنے پڑے اور اس نے جنگ بندی کے معاہدہ پر دستخط کر دیئے امیر امان اللہ خان حسب خواہش تمام مقاصد کے حصول میں