شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 180
180 نا کامی کی وجہ سے جنگ میں افغانوں کی فوج کے انگریزوں کا کامیاب مقابلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہو گیا اور سردار علی جان سے اس وجہ سے ناراض ہو گیا کہ اس کی رائے میں اس صلح کے کرنے میں وہ ناکام ثابت ہوا اور ڈیورنڈ لائن میں کوئی ترمیم افغانستان کے حق میں نہ کروا سکا۔جب سردار علی جان خاں واپس کا بل آیا تو ا میرا امان اللہ خان کی نظروں سے گر چکا تھا اسی طرح افغانستان کی آزادی اور جمہوریت کی دلدادہ پارٹی سردار محمود خان طرزی کی قیادت میں سردار علی جان خان سے ناراض ہو گئی جنگ بندی کا معاہدہ ۱۶ اگست ۱۹۱۹ء راولپنڈی میں مکمل ہوا۔اس کے نتیجہ میں امیر امان اللہ خان نے سردار علی جان خان کو کابل میں نظر بند کر دیا یہ نظر بندی کئی سال جاری رہی - (۴۴) اس زمانہ میں سمت جنوبی کے حکمرانوں کا صاحبزادگان سے سلوک کچھ مدت کے بعد شاہ محمود خان برا در جنرل محمد نادر خان کی شادی امیر امان اللہ خان کی ہمشیرہ قمر النساء سے ہو گئی یہ شخص سمت جنوبی کا حاکم مقرر ہو کر آیا اور گردیز میں قیام کیا جو صوبہ پکتیا کا ہیڈ کوارٹر ہے۔دورہ کرتے ہوئے خوست بھی آیا کیونکہ یہ شکار و تفریح کا دلدادہ تھا سید گاہ کے قریب ایک باغ میں ڈیرہ لگایا۔بعض وجوہات سے شاہ محمود خان اور اس کی بیوی حضرت صاحبزادہ صاحب کے خاندان سے ناراض ہو گئے چنانچہ وہ راتوں رات ڈیرہ اٹھا کر چلا گیا اور جاتے وقت صاحبزادگان کو دھمکی دے گیا کہ اب میں تمہیں درست کر دوں گا۔تھوڑے عرصہ بعد کا بل سے اطلاع آئی کہ شاہ محمود خان پکتیا سے کا بل واپس چلا گیا اور افغانستان کے ایک اور مقام پر اس کو بغاوت کے فرو کرنے کے لئے بھجوا دیا گیا۔اور یہ خطرہ ٹل گیا۔اس کے بعد ایک شخص امیر الدین خان حاکم مقرر ہو کر آئے یہ دراصل گجرات کے رہنے والے تھے اور بڑے اچھے آدمی تھے انہوں نے مشورہ دیا کہ تمہارے خاندان میں سے