شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 178
178 دشمن ہیں اس واسطے اگر ہمارے خلاف کوئی شکایت ہو تو اس کی تحقیق ضرور کریں برگیڈئیر کے عبد السلام جان سے اچھے تعلقات تھے اس نے بڑے ادب و احترام سے جواب دیا کہ شکایت کی صورت میں ضرور تحقیق کی جائے گی۔اگر بغیر تحقیق کے کوئی کاروائی کرنی ہوتی تو اب تک میں کچھ کر چکا ہوتا کیونکہ جب سے تم لوگ خوست آئے ہو تمہارے بارے میں بہت سی رپورٹیں پہنچی ہیں لیکن میں نے ان سب کو رد کر دیا ہے کیونکہ میں خود انہیں غلط سمجھتا ہوں۔(۴۳) افغانستان کی تیسری جنگ اور امیر امان اللہ خان کی طرف سے انگریزی حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان امیر امان اللہ خان نے بادشاہ بنتے ہی انگریزوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی جو افغانستان کی تیسری جنگ کہلاتی ہے۔اس جنگ میں علاوہ افغانستان کی باقاعدہ فوج کے قبائل اور عوام میں بھی جہاد کا اعلان کیا گیا اور افغانوں نے تین محاذوں پر برٹش انڈیا پر حملہ کیا۔ایک حملہ تو ڈکہ کے علاقے میں یعنی کا بل سے پشاور آنے والی سڑک کے راستہ کیا گیا دوسرا حملہ قندھار کی جانب سے کیا گیا۔اور تیسرا حملہ افغانستان کی سمت جنوبی خوست وغیرہ کی جانب سے کو ہاٹ کی جانب کیا گیا۔اس حملہ کی کمان جنرل محمد نادرخان نے سنبھالی ہوئی تھی۔چونکہ حملہ کی پہل افغانستان نے کی تھی اس لئے ابتداء میں ان کو کامیابی ہوئی اور وہ برٹش انڈیا کے اندر گھس گئے جنرل محمد نادر خان فوج اور قبائل حامیوں کی مدد سے مل ضلع کو ہاٹ تک پہنچ گیا۔عطا محمد خان حاکم خوست جو سردار شیر میں دل خان کا بیٹا تھا اس نے صاحبزادہ عبد السلام جان کو تحریک کی کہ وہ بھی اس جہاد میں شامل ہوں چنانچہ صاحبزادہ عبد السلام صاحب اپنے پچاس خدام کے ساتھ مل کے محاذ پر جنگ میں شامل ہوئے اور ٹل کو افغانوں نے