شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 177
177 امانتاً دفن کیا تو اس سارے کام میں سردار عبدالرحمن جان نے مدد کی اور سید احمد نور کو رقم بھی دی تا کہ وہ تابوت اور کفن وغیرہ خرید لیں۔جب تابوت قبرستان میں لایا گیا تو سردار عبدالرحمن جان نے ان کا جنازہ بھی پڑھایا اور انہی دنوں اس نے احمدیت بھی قبول کر لی اور سید احمد نور کے ہاتھ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ایک جائے نماز بھی تحفہ بھجوائی۔اس وجہ سے سردار عطاء محمد خان حاکم خوست کو بھی صاحبزادگان سے ہمدردی تھی جب صاحبزادگان کی ملاقات عطا محمد خان سے ہوئی تو اس نے اپنے سیکرٹری کو کہا کہ ان کو دو خط دیئے جائیں ایک خط برگٹ خوست کے نام دیا جائے جس کا نام شاہ بزرگ تھا اور اس کو ہدایت دی گئی کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے گھرانہ کو ان کی زمین دے دی جائے۔دوسرا خط حاکم چمکنی کے نام تھا جس کا نام محی الدین تھا چمکنی میں بھی ان کی زمین تھی۔خوست والی زمین ان کو فوراً واپس مل گئی حاکم چمکنی کے نام خط لے کر صاحبزادہ عبد السلام جان گئے انہوں نے یہ خط چمکنی میں حوالدار بادشاہ خان کو دیا جو پہلے کا بل میں رہتا تھا اس کے ساتھ اس خاندان کے پرانے تعلقات تھے اس نے چمکنی والی زمین کا بھی انتظام کر دیا یہ زمین بارہ حصوں میں منقسم تھی جن میں ایک حصہ صاحبزادگان کا تھا۔جب زمین واپس مل گئی تو یہ خاندان آرام سے اپنے وطن میں رہنے لگا۔صاحبزادگان کی واپسی کی خبر سن کر دور دور سے رشتہ دار آنے لگے اور انہوں نے تحائف پیش کئے۔علاوہ ازیں احمدیوں نے بھی دُنبے وغیرہ پیش کئے۔(۴۲) صاحبزادہ سید ابوالحسن قدسی بیان کرتے ہیں کہ کسی رشتہ دار نے ہماری رپورٹ برگیڈئیر سے کر دی کہ صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف شہید کے خاندان کے لوگوں کا تعلق خوست کے احمدیوں سے ہے اور ان کو ان کی طرف سے تحائف اور مال آنا شروع ہو گیا ہے۔اس واسطے ان کی نگرانی رکھنی ضروری ہے۔وہاں ایک ایسا آدمی تھا جس کا صاحبزادہ عبدالسلام جان سے تعلق تھا۔اس نے عبد السلام جان کو اس شکایت کی اطلاع کر دی۔اس پر عبدالسلام جان ملاقات کے لئے گئے اور برگیڈئیر کو کہا کہ ہر آدمی کے کچھ دشمن ہوتے ہیں۔ہمارے بھی بڑے