شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 176
176 ببرک خان بھی تھا جو حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف شہید سے عقیدت رکھتا تھا جب وہ بیعت کے لئے پیش ہوا تو اس کے ساتھ صاحبزادہ عبد السلام بھی بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے تھے۔اس موقعہ پر خان ببرک خان نے بادشاہ سے صاحبزادگان کے بارہ میں درخواست کی کہ ان کو ان کے وطن خوست بھجوا دیا جائے اس پر بادشاہ نے حکم دیا کہ صاحبزادگان خوست واپس چلے جائیں اور اُن کی جائداد بھی ان کو واپس کر دی جائے۔(۴۰) ” جب امیر امان اللہ خان صاحب حکمران ہوئے تو ان کی حکومت کے ابتدائی ایام میں علاقہ خوست کے سرکردہ لوگوں نے جن کا ہیڈ ایک مشہور و معروف شخص ببرک خان تھا (اس نے ) درخواست دی۔۔۔اس پر امیر امان اللہ خان صاحب نے ہم کو رہا کر دیا اور ساتھ ہی یہ حکم دے دیا کہ ان کو ان کی جائداد مل جائے اس امر کے متعلق ہمیں امیر امان اللہ صاحب کی طرف سے ایک فرمان بھی ملا جو ہم نے علاقہ خوست کے گورنر کو لا کر دے دیا۔۔۔۔۔اس طرح ایک دفعہ پھر ہمارا خاندان اپنے وطن آ گیا اور زندگی بسر کر نے لگا “ (۴۱) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف شہید کا گھرانہ واپس اپنے وطن خوست میں جب با دشاه امان اللہ خان نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے گھرانہ کو خوست واپس جانے کی اجازت دی اور ان کی جائداد کے واپس کئے جانے کا حکم دے دیا تو تین دن کے اندر یہ لوگ خوست روانہ ہو گئے۔سردار شیریں دل خان جو امیر عبدالرحمن خان اور امیر حبیب اللہ خان کے ابتدائی زمانہ میں حاکم خوست تھا۔اب اس کا بیٹا سردار عطا محمد خان حاکم خوست تھا سردار شیرین دل خان کا سارا خاندان حضرت صاحبزادہ صاحب سے عقیدت رکھتا تھا اس کی بیوی نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی بیعت کی ہوئی تھی اس کا ایک بیٹا سردار عبدالرحمن جان حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے وقت کا بل میں موجود تھا۔جب سید احمد نور کا بلی نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی نعش پتھروں کے نیچے سے نکالی اور انہیں تابوت میں رکھ کر کابل کے ایک قبرستان میں