شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 175
175 خان کی رنگین مزاجی پسند نہ تھی اس وجہ سے امیران سے ناراض رہنے لگا اور علیا حضرت - امیر کی نظروں سے گر چکی تھی اور امیر نے ان کو شاہی محل سے بھی نکلوا دیا تھا۔سنا جاتا ہے کہ وہ اس بے عزتی کو برداشت نہ کر سکیں اور انہوں نے امیر مقتول کے خلاف سازشیں شروع کر دی تھیں۔جن کا انجام بالآ خرا میر حبیب اللہ خان کے قتل پر منتج ہوا۔اور ان کی پس پردہ کوششوں سے ان کا اپنا بیٹا امیر امان اللہ خان بادشاہ بن گیا۔امیر امان اللہ خان فوج کی امداد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا اس نے فوجیوں کی تنخواہیں بھی بڑھا دیں۔جلال آباد کے علاقہ میں فوج نے نہ صرف امیر امان اللہ خان کی بادشاہت کو تسلیم کیا بلکہ ان لوگوں کو بھی گرفتار کیا جو امیر امان اللہ خان کے خلاف تھے اور جن پر امیر حبیب اللہ خان کے قتل کا الزام تھا۔امیر امان اللہ خان نے بادشاہ بن کر تمام صوبوں کے گورنر بدل دیئے اور ان میں سردارانِ پشاور کے خاندان کے آدمی لگائے جو عرف عام میں مصاحبین کہلاتے تھے سردار جنرل محمد نادر خان بھی مصاحبین میں شامل تھا۔قندھار کے صوبہ میں امیر امان اللہ خان نے سردارانِ قندھار میں سے ایک شخص لوہ ناب خوش دل خان کو گورنر مقرر کیا۔یہ شخص امیر امان اللہ خان کی والدہ علکیاء حضرت کا سوتیلا بھائی تھا اور ویسے بھی امیر حبیب اللہ خان اور امیر عبدالرحمن خان کے خاندان کا جدی رشتہ دار تھا جیسا که امیران افغانستان کے شجرہ نسب سے واضح ہو گا جو اس رسالہ میں دیا گیا ہے۔(۳۹) امیر امان اللہ خان کی تخت نشینی کے بعد صاحبزادگان کے حالات جب امیر امان اللہ خان بادشاہ بن گیا تو اس نے سات دن تک امیر حبیب اللہ خان کا سوگ منایا۔اُس کے بعد کئی ماہ تک تخت نشینی کا جشن منایا گیا۔کا بل کے باہر سے بڑے بڑے لوگ اور سرداران قبائل نئے امیر کی بیعت کے لئے بلائے گئے اور ان کے اعزاز میں دعوتوں کا اہتمام کیا گیا۔سمت جنوبی یعنی خوست وغیرہ سے بھی لوگ بلائے گئے ان میں ایک بڑا آدمی خان