شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 121
121 اس کی انہیں یہ تفہیم ہوئی کہ حضرت صاحبزادہ کو شہید کر دیا گیا ہے انہوں نے بعض لوگوں سے اس کا ذکر کیا لیکن انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ صاحبزادہ صاحب جیسے انسان کو قتل کر دیا جائے ان کا گاؤں جدلان نامی دریا کے کنارے پر واقعہ ہے اس کے قریب ایک جگہ مخیل ( ہاشم خیل) ہے جہاں پر کابل سے تاجر آتے جاتے ہیں سید احمد نور معلومات حاصل کرنے کے لئے مخیل گئے تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو سنگسار کر دیا گیا ہے اور اب تک ان کے جسم کے اوپر ایک درخت جتنا اونچا پھروں کا ڈھیر پڑا ہے۔سید احمد نور صاحب نے یہ سن کر عزم کیا کہ وہ کا بل جائیں گے اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے جسم کو ان پتھروں کے نیچے سے نکالیں گے خواہ اس کی پاداش میں ان کو بھی سنگسار کر دیا جائے وہ کابل کے ارادے سے روانہ ہوئے جب تخیل پہنچے تو مقامی حاکم کو ان کے ارادے کا علم ہو گیا اس نے ان کو بلوا کر کہا کہ تم فوراً اپنے گاؤں چلے جاؤ ورنہ تمہیں سخت سزا دی جائے گی پھر ان سے دو صد روپیہ کی ضمانت لی اور گاؤں واپس جانے کی ہدایت دے کر ان کو چھوڑ دیا۔سید احمد نورا ایک دوسرے راستہ سے کابل کی طرف روانہ ہو گئے۔(۱۳۵) سید احمد نور صاحب نے کابل پہنچ کر بعض دوستوں سے اپنے ارادہ کا ذکر کیا اور ان سے سنگساری کی جگہ دریافت کی انہوں نے بتایا کہ صاحبزادہ صاحب کو ہندوسوزان کے قریب سنگسار کیا گیا ہے۔سید احمد نو ر اس جگہ گئے اور دیکھ کر واپس آگئے انہیں یہ خیال پیدا ہوا کہ معلوم نہیں کہ صاحبزادہ صاحب ان کی نعش کے نکالے جانے پر راضی بھی ہیں یا نہیں۔انہوں نے رات کو دعا کی کہ اے مولا کریم میری راہنمائی فرما کہ صاحبزادہ صاحب اپنی نعش کے نکالے جانے پر راضی ہیں یا نہیں۔انہوں نے رویا میں دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب ایک کمرے میں ہیں۔انہوں نے دروازہ کھولا اور سید احمد نور کو اندر بلا لیا وہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے پاؤں دبانے لگے انہوں نے دیکھا کہ آپ کے پاؤں زخمی ہیں آنکھ کھلنے پر سید احمد نور نے اس کی یہ تعبیر مجھی کہ حضرت صاحبزادہ صاحب چاہتے ہیں کہ ان کی لاش پتھروں سے نکال لی جائے۔