شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 120
120 ” شاہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہو چکی۔اب ظالم کا پاداش باقی ہے۔انـه مـن يـات ربه مجرما فان له جهنم لايموت فيها و لا يحى - افسوس كه يه امیر زیر آیت من يقتل مومنا مُتَعَمِّدًا داخل ہو گیا۔اور مومن بھی ایسا مومن کہ اگر کابل کی تمام سرزمین میں اس کی نظیر تلاش کی جائے تو تلاش کر نالا حاصل ہے۔(۱۳۳) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف شہید کی نعش کا پتھروں سے نکالا جانا ،نماز جنازہ اور تدفین سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: میاں احمد نور جو حضرت صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب کے خاص شاگرد ہیں۔۸ / نومبر ۱۹۰۳ ء کو مع عیال خوست سے قادیان پہنچے ان کا بیان ہے کہ مولوی صاحب کی لاش برا بر چالیس دن تک ان پتھروں میں پڑی رہی جن میں سنگسار کئے گئے تھے۔بعد اس کے میں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر رات کے وقت ان کی نعش مبارک نکالی اور پوشیدہ طور پر شہر میں لائے اور اندیشہ تھا کہ امیر اور اس کے ملازم کچھ مزاحمت کریں گے مگر شہر میں وہائے ہیضہ اس قدر پڑ چکا تھا کہ ہر ایک شخص اپنی بلا میں گرفتار تھا اس لئے ہم اطمینان سے مولوی صاحب مرحوم کا قبرستان میں جنازہ لے گئے اور جنازہ پڑھ کر وہاں دفن کر دیا۔یہ عجیب بات ہے کہ مولوی صاحب جب پتھروں میں سے نکالے گئے تو کستوری کی طرح ان کے بدن سے خوشبو آتی تھی اس سے لوگ بہت متاثر ہوئے۔‘ (۱۳۴) سید احمد نور صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب انہیں اپنے گاؤں آئے ہوئے قریباً تین ماہ کا عرصہ ہو گیا تو ایک روز گاؤں کی مسجد میں تلاوت قرآن مجید کرتے ہوئے انہیں القاء ہوا: وعقر والناقة لو تسوّى بهم الارض لكان خيراًلهم - يعنی ان لوگوں نے (خدا کی ) اونٹنی کو مار دیا ہے مگر ان کی یہ حرکت اچھی نہ تھی۔اگر زمین ان پر ہموار کر دی جاتی تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔