شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 122
122 سید احمد نور یہ سوچتے رہے کہ یہ کام کیسے کیا جائے آخر وہ ایک فوجی حوالدار سے ملے جو حضرت صاحبزادہ صاحب کا معتقد تھا وہ ان کی بات سن کر رو پڑا اور کہا کہ میں نے بہت دفعہ ارادہ کیا کہ لاش نکالوں لیکن میں اکیلا تھا مجھ میں اس کی طاقت نہ تھی اب آپ آگئے ہیں میں انشاء اللہ ضرور آپ کی مدد کروں گا۔سید احمد نور نے حوالدار صاحب سے کہا کہ وہ کچھ آدمی اپنے ساتھ لے کر رات بارہ بجے مقام شہادت پر پہنچیں میں تابوت ، کفن اور خوشبو وغیرہ لے کر وہاں آ جاؤں گا۔چنانچہ وہ ایک مزدور سے تابوت اٹھوا کر وقت مقررہ پر ایک قبرستان میں پہنچ گئے جو مقام شہادت کے قریب ہی تھا۔ان دنوں ہیضہ کی وباء پھیلی ہوئی تھی ، لوگ کثرت سے مر رہے تھے۔قبرستان میں میت کے بعد میت تدفین کے لئے لائی جاتی تھی افرا تفری کا عالم تھا اس لئے ان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ وہ وہاں کیسے آئے ہیں اور یہ کہ تابوت میں کوئی لاش ہے یا نہیں۔حوالدار نے آنے میں کچھ دیر کی یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی سید احمد نور نے سوچا کہ وہ اکیلے ہی پتھروں کو ہٹا کر لاش نکالتے ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد حوالدار صاحب بھی کچھ لوگوں کو لے کر آ گئے۔یہ سب لوگ تابوت لے کر مقام شہادت پر پہنچے۔چاندنی رات تھی ایک آدمی کو پہرہ پر مقرر کیا اور باقی سب پتھر ہٹانے لگے یہاں تک کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی لاش نظر آنے لگی اس وقت اس میں سے نہایت تیز خوشبو آ رہی تھی یہ دیکھ کر حوالدار کے ساتھی کہنے لگے کہ شاید یہ وہی آدمی ہے جس کو امیر حبیب اللہ خان نے سنگسار کروایا تھا سید احمد نور نے کہا ہاں یہ وہی آدمی ہے یہ شخص اکثر قرآن شریف کی تلاوت کرتا رہتا تھا اور ذکر الہی میں مصروف رہتا تھا یہ وہی خوشبو ہے۔جب نعش کو کفن پہنایا گیا تو سید احمد نور نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک پہاڑی کے پیچھے سے پچاس پیدل پہرہ دار اور ایک سوار گشت کرتے ہوئے آ رہے ہیں ان دنوں کا بل میں رات کے وقت پہرہ ہوتا تھا اور کسی کو باہر پھرنے کی اجازت نہ ہوتی تھی اگر رات کو کوئی شخص باہر پھرتا نظر پڑتا تھا تو اسے قتل کر دیا جاتا تھا۔سید احمد نور نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ پہرہ والے آ رہے ہیں یہاں سے ہٹ جاؤ۔تب سب وہاں سے ہٹ کر چھپ گئے۔تھوڑی دیر میں