شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 14 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 14

شعب ابی طالب 14 آپ پر بہت سے احسان تھے آپ کو بچوں کی طرح پالا تھا ہر مشکل میں ساتھ دیا تھا مخالفین کومیانہ روی پر آمادہ کرتے رہے تھے اس وجہ سے آپ کو ابو طالب سے بہت محبت تھی آپ نے بہت کوشش کی کہ وہ کلمہ شہادت پڑھ لیں مگر ابوطالب نے آپ کو سچا اور اعلیٰ اخلاق پر قائم یقین کرنے کے باوجود واضح لفظوں میں اسلام قبول نہ کیا اور اسی حالت میں اشی (۸۰) سال سے زائد عمر میں آپ کا انتقال ہو گیا۔وفات کے وقت حضرت ابوطالب نے وصیت کی ”اے قریش تم خدا کی مخلوق میں سے ایک برگزیدہ قوم ہو خدا نے تمہیں بڑی عزت دی ہے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ محمد کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔کیونکہ وہ اعلیٰ اخلاق کا انسان ہے اور عربوں میں صدق وصفا کی وجہ سے ممتاز ہے اور بیچ یہ ہے کہ وہ ہماری طرف ایک ایسا پیغام لیکر آیا جس کا زبان نے انکار کر دیا مگر دل نے اسے تسلیم کیا میں نے عمر بھر اس کا ساتھ دیا اور ہر تکلیف کے موقع پر اس کی حفاظت کیلئے آگے بڑھا ہوں اور اگر مجھے مزید مہلت ملتی تو بھی ایسا ہی کرتا اے قریش ! میری تم کو بھی نصیحت ہے کہ اسے دکھ دینے کے در پے نہ رہو بلکہ اس کی نصرت واعانت کرو کہ تمہاری اسی میں بھلائی ہے۔(زرقانی جلد اول صفحه ۲۹۵-۲۹۶) ابوطالب کی وفات کے چند دن بعد ا ا رمضان المبارک ۱۰ نبوی کو حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا بڑی صداقت اور وفاشعاری سے اپنے عظیم المرتبت شوہر کا ساتھ نبھانے کے بعد اپنے مولا کے حضور حاضر ہوگئیں وفات کے وقت آپ کی عمر پینسٹھ (۲۵) سال تھی حضور ساینا یہ تم پہلے خود قبر میں اُترے پھر آپ کے جسد فانی کو قبر میں اُتارا اُس وقت تک نماز جنازہ فرض نہ ہوئی تھی اس لئے آپ کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی۔(سیرت الصحابیات صفحہ ۲۸)