شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 15
شعب ابی طالب 15 یہ وہ خاتون تھیں جن سے رسول پاک سنی یا یہ تم کو بے حد محبت تھی دو ایسی ہستیاں جن سے آپ پیار کرتے تھے بہت کم وقفے سے آپ کا ساتھ چھوڑ گئیں آپ نے افسردہ دلی سے اس سال کو عام الحزن کا نام دیا ( یعنی غموں کا سال)۔حضرت خدیجہ نے بڑی دانشمندی اور فدائیت سے ہر قسم کے حالات میں ساتھ نبھایا تھا۔آپ گھر تشریف لاتے تو کبھی یہ حالت ہوتی کہ خاک آلود ہوتے دشمنوں نے دورانِ نماز آپ پر مٹی ڈال دی ہوتی۔کبھی آوارہ گر داڑ کے آپ کے پیچھے لگے ہوتے۔آپ گھر میں داخل ہو جاتے تو بھی اُن کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوتا اور گھر کے اندر پتھر پھینکنے لگتے۔گھر میں صرف پتھر ہی نہیں آتے تھے بلکہ بکروں اور اونٹوں کی انتڑیاں اور دوسری بد بودار آلائش بھی پھینک دی جاتی۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لاتیں۔آنحضور صلی نیا پہ تم اور بچوں کی حفاظت کرتیں اور انہیں سمجھا تیں کہ یہ مشکلیں اللہ کے راستے میں چلنے والوں کو ہمیشہ پیش آتی ہیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بڑا حوصلہ دیا تھا بجائے اس کے کہ شوہر کے سامنے شکایتیں لیکر بیٹھتیں الٹا اپنی تکلیف کم کر کے بتا تیں اور آپ کو اطمینان دلا تیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے آپ آنحضور صلی اینم کی مخلص وزیر تھیں۔آنحضرت صلی یا اسلام کو مشرکوں کی تکذیب یا تردید سے جو صدمہ پہنچتا حضرت خدیجہ کے پاس آکر دور ہو جاتا کیونکہ وہ آپ کی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں اور مشرکین کے معاملہ کو آپ کے سامنے بے وقعت کر کے پیش کرتی تھیں“۔(ابن ہشام) آپ کو حضرت خدیجہ کی قربانیاں ہمیشہ یادر ہتیں ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا